خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ سامنے آیا ہے، جہاں بھارتی میڈیا نے بھی پاکستان کی سفارتی برتری کا اعتراف کر لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور مؤثر ثالثی کردار نے علاقائی طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی جریدے دی وائیر نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف مؤثر سفارت کاری کا مظاہرہ کیا بلکہ بھارت کی ’ پاکستان کو تنہا کرنے کی حکمت عملی‘ کو بھی ناکام بنا دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور ثالثی کردار نے علاقائی حرکیات کو یکسر بدل دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اب امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے، جہاں واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ کے حساس معاملات میں اسلام آباد کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ پاکستان کو بیک وقت امریکا اور ایران دونوں کا اعتماد حاصل ہے، جو ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
بھارتی میڈیا نے اپنی ہی حکومت کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی حکمت عملی ’بری طرح ناکام‘ ہو چکی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ امریکا اب اہم معاملات میں پاکستان پر زیادہ اعتماد کر رہا ہے، جبکہ بھارت کو بتدریج سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی قربت نے اس کی اسٹریٹجک خودمختاری کو متاثر کیا ہے، اور عالمی سطح پر اس کا کردار محدود ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ امریکا اب بھارت کو ایک بڑے شراکت دار کے بجائے ہتھیاروں کے خریدار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
دوسری جانب رپورٹس میں پاکستان، مصر اور ترکیہ پر مشتمل ابھرتے سفارتی بلاک کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس نے خطے میں نئی صف بندی پیدا کر دی ہے اور بھارت کو اہم مذاکراتی عمل سے باہر کر دیا ہے۔
مزید برآں بھارتی میڈیا نے خبردار کیا کہ ایران کی چابہار بندرگاہ میں بھارت کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے، کیونکہ بدلتی علاقائی صورتحال میں پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔
بھارتی میڈیا نے یہ بھی اعتراف کیا کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کیا بلکہ اسے ’عالمی امن کے ضامن‘ کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے جو ماضی کے بیانیے سے بالکل مختلف ہے۔
آخر میں کہا گیا کہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور خطے میں سفارتی بساط پر نئے اتحاد اور نئی حکمت عملیاں سامنے آ رہی ہیں۔














