مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں کم عمر لڑکیاں لاپتہ، لوک سبھا میں تشویشناک انکشاف

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نئی دہلی میں مودی کی قیادت والی بھارتی حکومت نے لوک سبھا میں اعتراف کیا ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑی تعداد میں کم عمر لڑکیاں لاپتہ ہوئی ہیں، جس نے علاقے میں بچوں کی حفاظت اور حکومتی ذمہ داری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

2023 میں 500 سے زائد لڑکیاں لاپتہ

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ نے بتایا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2023 میں 18 سال سے کم عمر 509 لڑکیاں لاپتہ ہوئیں۔

ان میں سے 209 لڑکیاں بازیاب ہوئیں جبکہ 300 لڑکیوں کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

گمشدگیوں کا تسلسل

ذرائع کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں کم عمر لڑکیوں کی گمشدگی کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مسلسل رجحان بن چکا ہے۔

2019 میں 355 لڑکیاں، 2020 میں 350 لڑکیاں، 2021 میں 443 لڑکیاں، 2022 میں 502 لڑکیاں، 2023 میں 509 لڑکیاں لاپتہ ہوئیں۔

یہ اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔

حکومتی اقدامات اور سوالات

بھارتی حکومت نے ٹریک چائلڈ، کھویا پایا پلیٹ فارمز اور CCTNS کے ذریعے کیسز حل کرنے کے دعوے کیے ہیں، تاہم متعدد کیسز اب بھی حل طلب ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ حکومتی اقدامات مؤثر نہیں اور عوام میں خوف و ہراس بڑھ رہا ہے۔ متاثرہ خاندان اپنے لاپتہ بچوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق اور عالمی توجہ کی ضرورت

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ بچوں کی مسلسل گمشدگی اور ان کی تلاش میں سست روی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کشمیر میں خصوصاً بچے محفوظ نہیں۔

لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ گمشدگی کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔عالمی برادری اس مسئلے پر توجہ دے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعات انسانی اسمگلنگ اور بچوں کے استحصال جیسے سنگین جرائم سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتحال ایک بار پھر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی حالت کو اجاگر کرتی ہے۔ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری، شفاف اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ لاپتہ لڑکیوں کو بازیاب کرایا جا سکے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp