ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کی پیشکش کو بروقت اور مثبت قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششیں قابل تعریف ہیں، چین
ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر دوست ممالک کی قیادت کو سراہا جنہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے عُمان کی قیادت کی سابقہ کوششوں کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔
انور ابراہیم نے کہا کہ پاکستان کے امریکا اور ایران کے ساتھ تعلقات اور مسلم دنیا میں اس کا مؤثر کردار اسے بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی مضبوط پوزیشن میں رکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ اس پیشکش کا مثبت جواب دیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ صورتحال میں سفارتکاری کے لیے کچھ گنجائش اب بھی موجود ہے، جسے سنجیدگی سے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مذاکرات کا مقصد محض وقتی جنگ بندی نہیں بلکہ تنازع کا مستقل حل ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیے: ایران امریکا کے مابین ثالثی: پاکستان کے نمایاں کردار پر بھارت میں ہنگامہ، کانگریس نے مودی حکومت کو دھو ڈالا
ملائیشین وزیراعظم نے ایران کے اپنے دفاع کے حق کو بین الاقوامی قانون کے تحت تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران اور لبنان میں جاری حملوں کے تناظر میں یہ حق اہم ہے۔ تاہم انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور شہری آبادی کو مزید نقصان سے بچائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خلیجی ممالک سمیت پورا خطہ اس تنازع کے معاشی، سماجی اور استحکامی اثرات سے متاثر ہو سکتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکا جائے۔
I welcome Pakistan’s timely and constructive offer to host dialogue between the United States and Iran. I commend Prime Minister Shehbaz Sharif and the leaders of other friendly nations for stepping forward at a moment of acute regional danger, following the earlier commendable… pic.twitter.com/ObtNuey9OS
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) March 25, 2026
انور ابراہیم نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی قوانین کا اطلاق بعض اوقات یکساں نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین کی ساکھ اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب انہیں بلا امتیاز لاگو کیا جائے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں انہوں نے خلیجی تعاون کونسل، پاکستان، جاپان، انڈونیشیا، ترکیہ اور مصر سمیت مختلف ممالک کے رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں تاکہ صورتحال کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی جا سکیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملائیشیا خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔














