سابق گوگل ایگزیکٹو میٹ برٹِن بی بی سی کے نئے ڈائریکٹر جنرل مقرر

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل کے سابق ایگزیکٹو میٹ برٹِن بی بی سی نے نئے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: بی بی سی کی ’آوازِ ہند‘ مارک ٹلی 90 برس کی عمر میں چل بسے

میٹ برٹِن ٹم ڈیوی کی جگہ آئیں گے جو گزشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک خطاب کی خبر میں ہونے والی سیاق و سباق کی ’غلطی‘ پر عہدہ چھوڑ گئے تھے۔

بی بی سی اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دائر 10 ارب ڈالر کی قانونی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے جس میں ٹرمپ نے عوامی طور پر فنڈ کیے جانے والے نشریاتی ادارے پر ہتک عزت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ مقدمہ اس بات سے متعلق ہے کہ بی بی سی نے 6 جنوری 2021 کو ٹرمپ کے خطاب کے کچھ حصوں کو ملا کر دکھایا۔

بی بی سی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ مقدمہ خارج کیا جائے کیونکہ ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ بدنامی نے ان کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچایا۔

میٹ برٹِن نے سنہ 2007 میں گوگل میں یوکے اور آئرلینڈ کے سربراہ کے طور پر شمولیت اختیار کی اور سنہ 2014 میں ای ایم ای اے (یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ) کے صدر بنے۔ انہوں نے سنہ 2024 میں استعفیٰ دیا اور 18 مئی سے بی بی سی میں نئے عہدے کا آغاز کریں گے۔

مزید پڑھیے: دنیا کے معروف نشریاتی ادارے بی بی سی کو ڈونلڈ ٹرمپ سے معافی کیوں مانگنی پڑی؟

ٹیم ڈیوی

میٹ برٹِن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جس میں خطرات بھی ہیں اور مواقع بھی۔ انہوں نے کہا کہ بی بی سی کو اس رفتار اور توانائی کی ضرورت ہے تاکہ جہاں کہانیاں ہیں اور جہاں ناظرین ہیں وہاں بی بی سی پہنچے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی بی سی کی پہنچ، اعتماد اور تخلیقی قوتوں کو آگے بڑھانا، چیلنجز کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کرنا اور عوامی خدمت کے لیے مستقبل کے مطابق ترقی کرنا میرا مقصد ہے اور میں کام شروع کرنے کے لیے بیتاب ہوں۔

بی بی سی نے برٹِن کی ایڈیٹوریل یا نشریاتی تجربے کی کمی کی وجہ سے اعلان کیا کہ وہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل مقرر کریں گے تاکہ آپریشنل امور میں معاونت ہو۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے بارے میں ڈاکومنٹری کی متنازع ایڈیٹنگ، بی بی سی کا ایک اور عہدیدار مستعفی

57 ساکلمیٹ برٹِن، 57 سالہ، ایک نازک مرحلے پر ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ انہیں نشریاتی ادارے کی رائل چارٹر کی میعاد کے اختتام 2027 کے بعد نئی مالی ترتیب طے کرنی ہوگی۔ اختیارات میں ٹی وی دیکھنے والے گھروں سے لائسنس فیس برقرار رکھنا، یا سبسکرپشن اور اشتہاری فنانسنگ میں تبدیلی شامل ہو سکتی ہے۔

بی بی سی کو اس وقت اپنی اہمیت برقرار رکھنے کی لڑائی کا سامنا ہے کیونکہ ناظرین خصوصاً نوجوان، اسٹریمنگ اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: امریکی صدر ٹرمپ کا بی بی سی کے خلاف 5 ارب ڈالر تک ہرجانے کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان

یہ عہدہ سیاسی دباؤ کے بھی تحت ہے کیونکہ بی بی سی پر غیرجانبداری کے حوالے سے تنقید کی جاتی ہے جس سے ایک ایسے ادارے پر دباؤ بڑھتا ہے جسے برطانیہ کا سب سے معتبر اور دیرپا ثقافتی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp