پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے نئی ایندھن پالیسی کے تحت پاکستان آنے والی غیر ملکی ایئرلائنز کو واپسی کا ایندھن ساتھ لانے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس کے بعد فضائی آپریشنز پر اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
پاکستان میں طیاروں کو ایندھن کی فراہمی سے متعلق ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت غیر ملکی ایئرلائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پاکستان سے واپسی کے لیے درکار ایندھن اپنے ساتھ لے کر آئیں۔
اس حوالے سے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے باقاعدہ نوٹم (NOTAM) جاری کر دیا ہے۔
ایندھن پالیسی کی تفصیلات
نوٹم کے مطابق غیر ملکی ایئرلائنز کو پاکستان میں بہت محدود مقدار میں ایندھن فراہم کیا جائے گا۔ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے طیاروں میں اضافی جیٹ فیول ساتھ لائیں۔ واپسی کی پرواز کے لیے مکمل ایندھن پاکستان سے فراہم نہیں کیا جائے گا۔
پی اے اے حکام کا کہنا ہے کہ مقامی یعنی پاکستانی ایئرلائنز کو ان کی ضروریات کے مطابق مکمل ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے۔
آپریشنل اثرات
ذرائع کے مطابق اس پالیسی کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔آج کراچی سے Doha جانے والی ایک غیر ملکی ایئرلائن کی پرواز کو ایندھن کی کمی کے باعث Muscat میں لینڈنگ کرنا پڑی۔
اضافی ایندھن لے جانے کے باعث طیاروں کے وزن میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مسافروں اور کارگو پر اثر
ایئرلائن ذرائع کے مطابق اضافی ایندھن کی وجہ سے طیاروں میں وزن کی گنجائش کم ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں مسافروں کا سامان اور کارگو چھوڑا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پالیسی وقتی انتظام ہو سکتی ہے، تاہم اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو بین الاقوامی پروازوں، مسافروں اور تجارتی کارگو پر مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔














