افغانستان میں طالبان کی حکومت کو عمومی طور پر شریعت کے نفاذ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت اس سے خاصی مختلف نظر آتی ہے۔ بظاہر مذہبی رنگ میں ڈھالا گیا یہ نظام درحقیقت ایک ایسے سخت گیر اور محدود طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے جہاں اقتدار کا مرکز ایک مخصوص قیادت تک محدود ہے، اور مذہب کو اختیار کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان عام شہریوں کو بطور ہیومن شیلڈ استعمال کر رہے ہیں، خواجہ محمد آصف
طالبان کی حکومت عوامی رائے یا جمہوری عمل کے ذریعے قائم نہیں ہوئی۔ نہ انتخابات ہوئے، نہ عوامی مشاورت، نہ ہی رضامندی حاصل کی گئی۔ اقتدار مسلح جدوجہد، دباؤ اور ریاستی ڈھانچے کے انہدام کے بعد حاصل کیا گیا۔ ایسے میں خاموشی کو عوامی حمایت سمجھنا درست نہیں بلکہ یہ خوف اور مجبوری کی علامت ہو سکتی ہے۔ اسلامی اصولوں میں رضاکارانہ بیعت اور عدل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ جبر کے ذریعے قائم نظام ان اصولوں سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔
حکومتی ڈھانچہ بھی شدید مرکزیت اور محدودیت کا شکار ہے۔ اصل اختیارات چند افراد تک محدود ہیں جبکہ دیگر ادارے محض رسمی حیثیت رکھتے ہیں۔ نہ کوئی مؤثر پارلیمنٹ ہے، نہ آزاد عدلیہ، اور نہ ہی آزاد میڈیا۔ شفافیت اور احتساب کا فقدان اس نظام کو مزید سوالات کے گھیرے میں لے آتا ہے۔
افغان معاشرے کی نسلی و سماجی تنوع کے باوجود اقتدار کا ارتکاز ایک خاص طبقے میں نظر آتا ہے، جس سے دیگر گروہوں کی نمائندگی محدود ہو جاتی ہے۔ یہ صورتحال شمولیت کے بجائے محرومی کا تاثر پیدا کرتی ہے، حالانکہ اسلامی تعلیمات مساوات اور اجتماعی ہم آہنگی پر زور دیتی ہیں۔
فکری آزادی اور اختلافِ رائے کی گنجائش بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ تنقید کو بغاوت تصور کیا جاتا ہے اور مختلف آراء کو دبایا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں مکالمہ ختم ہو جاتا ہے اور خوف غالب آ جاتا ہے، جبکہ اسلام میں مشاورت اور علم کی اہمیت واضح ہے۔
قانونی نظام پر بھی سوالات اٹھتے ہیں جہاں قوانین کے اطلاق میں یکسانیت نظر نہیں آتی اور بعض اوقات طاقتور اور عام شہری کے لیے مختلف رویے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس سے انصاف کے تصور کو نقصان پہنچتا ہے۔
معاشی اور سماجی سطح پر بھی چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ غربت، بے روزگاری اور خوراک کی قلت جیسے مسائل سنگین ہو رہے ہیں، جبکہ تعلیمی نظام محدود ہوتا جا رہا ہے۔ جدید تعلیم اور تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی کے بجائے پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے افغان طالبان کے الزامات کو ’جھوٹا بیانیہ‘ قرار دے دیا
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ نظام میں جبر، نگرانی اور محدود آزادی نمایاں عناصر ہیں۔ ایسا نظام جو عوامی شرکت اور اظہارِ رائے کو محدود کرے، اس کی اخلاقی و سماجی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔
نتیجتاً یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا یہ واقعی شریعت کا نفاذ ہے یا ایک ایسا بادشاہی نظام جس میں اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے مذہبی بیانیہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک مستحکم اور منصفانہ معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ انصاف، شمولیت، علم اور مکالمہ کو فروغ دیا جائے وہ اصول جو کسی بھی حقیقی فلاحی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔













