وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ جس میں پاکستان کو کابل میں منشیات بحالی کے ایک اسپتال کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں عطا اللہ تارڑ نے اسپتال کو نشانہ بنانے کے الزام کو ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے افغانستان، بنوں حملے کے تانے بانے بھی کابل سے جا ملے
’پاکستان صرف ان فوجی و دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر پاکستان کے اندر دہشت گردی کی منصوبہ بندی، سہولت کاری، پناہ گاہ، تربیت یا معاونت میں ملوث ہیں۔‘
وفاقی وزیر کے مطابق 16 مارچ کی رات کابل اور ننگرہار میں کیے گئے حملے ’انتہائی درست، سوچے سمجھے اور پیشہ ورانہ‘ تھے۔
The Afghan Taliban regime is peddling yet another falsehood by alleging that Pakistan targeted a drug rehabilitation hospital in Kabul. This claim is entirely baseless.
Pakistan, in its ongoing war against terrorism, is engaging only those military and terrorist targets, along…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 17, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ کسی اسپتال، منشیات بحالی مرکز یا کسی بھی شہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ صرف عسکری اور دہشت گرد انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اسلحہ اور تکنیکی سازوسامان کے ذخیرے شامل تھے۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ ان کارروائیوں کی ویڈیو فوٹیج وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے فوری طور پر جاری کی گئی، جس سے اہداف کی نوعیت واضح ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: آپریشن غضب للحق: پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ٹھکانے تباہ
ان کے مطابق کابل میں نظر آنے والی آگ اور ثانوی دھماکے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسلحہ کے ذخیرے کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ماضی میں بھی ’جھوٹے بیانیے، مسخ شدہ دعوے، پرانی ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹس میں رد و بدل‘ کے ذریعے گمراہ کن پروپیگنڈا کرتی رہی ہے، اور حالیہ الزام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک افغان کشیدگی: پاکستان کی فوجی طاقت کے مقابلے میں کابل کے پاس کونسے آپشنز باقی ہیں؟
وفاقی وزیر نے کہا کہ اصل مسئلہ بدستور برقرار ہے کہ افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے دہشتگردی کا خطرہ موجود ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے اور دنیا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشتگردی میں منشیات کےعادی افراد اور معصوم بچوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام جاری رکھے گا اور سرحد پار دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔














