بنگلہ دیش کی خفیہ ایجنسی ڈائریکٹوریٹ جنرل فورسز انٹیلی جنس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) مامون خالد کو ڈھاکہ میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا، جبکہ عدالت نے ایک قتل کیس میں انہیں پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:حسینہ واجد کی حوالگی سے متعلق بھارت نے ابھی تک جواب کوئی نہیں دیا، بنگلہ دیشی مشیر خارجہ
حکام کے مطابق انسداد بدعنوانی کمیشن گزشتہ ڈیڑھ سال سے مامون خالد کے خلاف غیر قانونی حصص کی خرید و فروخت، اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی بے ضابطگیوں، بدعنوانی اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات کی تحقیقات کر رہا تھا، جس کے تحت مئی 2025 میں ان پر سفری پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔
دوسری جانب ڈھاکہ کی عدالت نے جمعرات کے روز میرپور میں جولائی 2024 کے احتجاجی مظاہروں کے دوران شہری دلوار حسین کے قتل کے مقدمے میں 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ میٹروپولیٹن مجسٹریٹ محمد صدیق آزاد نے پولیس کی جانب سے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا۔

مقدمے کے مطابق 19 جولائی 2024 کو میرپور 10 کے علاقے میں مسلح افراد نے طلبہ اور شہریوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دلوار حسین شدید زخمی ہو گئے اور بعد ازاں 21 جولائی کو دورانِ علاج دم توڑ گئے۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ سابق انٹیلی جنس سربراہ کا اس واقعے سے تعلق ہے۔
مامون خالد کو میرپور ڈیفنس آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے رات گئے حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں عدالت میں پیش کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے دورِ ملازمت کے دوران 2009 کی بنگلہ دیش رائفلز بغاوت کے بعد کیے گئے اہم فیصلوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ بعض سیاسی حلقوں میں غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں سے مبینہ روابط کے الزامات بھی زیر گردش ہیں، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: بس دریائے پدما میں گرنے سے کم از کم 23 افراد ہلاک
بی این پی حکومت سے قریبی ذرائع کے مطابق یہ گرفتاری ماضی کے سرکاری عہدیداروں کے خلاف جاری احتسابی مہم کا حصہ ہے، جن پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ حکام کی جانب سے تاحال تمام الزامات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ مامون خالد یا ان کے وکلا کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔













