جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی اور قومی سطح پر واضح قومی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، خطے کی صورتحال میں پاکستان کے پاس ثالثی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر وہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کی تجویز دے چکے ہیں تاکہ قومی مشاورت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششیں قابل تعریف ہیں، چین
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اور قومی سطح پر واضح قومی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اسلامی دنیا مسلسل بحرانوں کا شکار ہے اور ہر طرف جنگی ماحول پایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عراق اور لیبیا کے بعد اب ایران کے حالات بھی تشویشناک ہو چکے ہیں، اس لیے مسلم ممالک کو اسلامی بلاک کی جانب پیشرفت کرنی چاہیے۔
مولانا فضل فضل الرحمان کے انہوں نے مزید کہا کہ ثالثی کی باتیں ضرور ہورہی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس وقت ثالثی کی پوزیشن میں ہے، پاکستان کے پاس ثالثی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، نہ ہی ملک کی کوئی واضح خارجہ پالیسی نظر آرہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان متحرک، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ٹرمپ سے رابطہ: فنانشل ٹائمز کی رپورٹ
ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور ٹانک سمیت کئی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، جبکہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر بھی حالات کشیدہ ہیں، ملک میں حکومتی رٹ کہیں دکھائی نہیں دے رہی اور مختلف علاقے بدامنی کا شکار ہیں۔














