اسرائیل کی فوج کو افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث اس کی آپریشنل صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اعلیٰ عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو فوج اندر سے کمزور ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے دباؤ اور افرادی کمی کے باعث فوج ’خود ہی بکھر سکتی ہے‘۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے بدھ کے روز سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ میں آپ کے سامنے 10 خطرے کے جھنڈے لہرا رہا ہوں۔
متعدد محاذوں پر جنگ کا دباؤ
انہوں نے کہا کہ مختلف محاذوں پر جاری لڑائی کے باعث فوج پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، اور جلد ہی ایسا وقت آ سکتا ہے جب وہ معمول کی ذمہ داریاں بھی پوری کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔
نئے قوانین کی ضرورت پر زور
ایال زمیر نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری قانون سازی پر زور دیا، جس میں لازمی بھرتی (conscription) سے متعلق قانون، ریزرو ڈیوٹی کا قانون اور لازمی فوجی سروس کی مدت بڑھانے کا قانون شامل ہیں۔
اسرائیلی فوجی قیادت کی یہ وارننگ ظاہر کرتی ہے کہ جاری تنازعات کے دوران افرادی قوت کی کمی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، جو مستقبل میں ملک کی سکیورٹی حکمت عملی کو متاثر کر سکتی ہے۔














