تحریک انصاف کی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ نے کہا کہ بس! اب بہت ہوگیا ہے، ہمیں اپنے گھر والوں سے ملنا ہے۔ جیل میں آدھی، آدھی رات کو ہماری تلاشیاں لی جاتی ہیں جیسے ہم کوئی دہشتگرد ہیں، وہاں خواتین کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی دہشت گرد نہیں ہیں، کوئی چور، ڈاکو نہیں ہیں۔ اب بہت ہوگیا ہے۔ کوئی بھی ہمیں غیر قانونی طور پر قید نہیں رکھ سکتا۔
’ جیل میں آدھی، آدھی رات کو ہماری تلاشیاں لی جاتی ہیں جیسے ہم کوئی دہشتگرد ہیں۔ جب ہم سے کچھ برآمد نہیں ہوا تو پھر کیوں ہماری بار بار جسمانی تلاشی لی جاتی ہے، کیوں 5 عورتیں آ کر ہماری جسمانی تلاشی لیتی ہیں؟ ہم نے کون سا جرم کیا ہے کہ وہ رات ایک بجے ہمیں نیند سے جگاتی ہیں اور تلاشی لیتی ہیں؟‘
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے گھر والوں سے ملنا ہے، ہمیں 25 دن ہوچکے ہیں، بس! اب بہت ہوگیا ہے، ہماری وہ بیٹیاں رُل رہی ہیں جو آج تک گھروں سے باہر نہیں نکلیں۔ ہماری شناخت پریڈ ہوچکی ہے، پھر کیوں ہمیں عدالتوں میں لے جایا جاتا ہے؟
آدھی آدھی رات کو ہماری تلاشیاں لی جاتی ہیں، خواتین کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، سابق ایم این اے عالیہ حمزہ کی انسداددہشت گردی عدالت پیشی کے موقعہ پر گفتگو
pic.twitter.com/xKzOsY5sa1— PTI (@PTIofficial) June 3, 2023
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی توہین کی باتیں ہوتی ہیں، کیا ان عورتوں کی توہین نہیں ہورہی؟ انہوں نے کہا وہ سب کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی۔
عالیہ حمزہ کا کہنا تھا ’ کہا جارہا ہے کہ جیل میں 13 خواتین ہیں، حالانکہ ہم خواتین کی تعداد 19 ہے۔ انہوں نے کہا کہ بس! بہت ظلم ہوچکا ہے، اب ہم مزید ظلم نہیں کرنے دیں گی۔ کسی کو اندازہ نہیں کہ جیل میں ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ ہماری بیٹیاں جو ہمیشہ گھروں میں رہتی تھیں، وہ ظلم سہہ رہی ہیں اور انصاف کے حصول کے لیے رل رہی ہیں‘۔
اس موقع پر تحریک انصاف کی خاتون رہنما صنم جاوید نے کہا کہ حکام ہم پر الزام عائد کرنے کے لیے پریس کانفرنسز کرتے ہیں لیکن ہمیں بات کرنے نہیں دی جاتی۔














