ایران میں جنگ بندی کے خلاف بھارت اور افغانستان کی مشترکہ مہم بے نقاب

ہفتہ 28 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت اور افغانستان کی ایران دشمنی کھل کر سامنے آ گئی ہے اور ان کی ایران میں جنگ بندی کو ناکام بنانے کے لئے کی گئی ایک مشترکہ بین الااقوامی سازش پکڑی گئی ہے۔

بالخصوص بھارت، ایران اور امریکا کے مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت کو ناکام بنانے کے لئے اس وقت پورا زور لگا رہا ہے اور افغانستان کے ساتھ بنائے گئے مشترکہ منظم ’ڈس انفارمیشن نیٹ ورک‘ کے ذریعے ہر وہ کام کر رہا ہے جس سے ایران اور خطے میں قیام امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔

مزید پڑھیں: بھارت کو سفارتی اور دفاعی ناکامیوں کے بعد تجارتی میدان میں بھی شکست، دی وائر نے بھانڈا پھوڑ دیا

گذشتہ چند روز سے یہ ’ڈس انفارمیشن نیٹ ورک‘ پاکستان کی طرف سے کی جانے والی مصالحانہ کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے پاکستان اور ایرانی حکومت کے مابین اختلافات پیدا کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

 

یہ منظم ڈس انفارمیشن نیٹ ورک جعلی ایرانی اکاونٹس کے زریعے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے میں ملوث ہے تاکہ عام ایرانی عوام کو پاکستان کی قیام امن کے لئے کی گئی کوششوں سے بد ظن کیا جائے۔

جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان اور ایران میں تلخی پیدا کرنے کی کوشش

اس معاملے کے متعلق سامنے آنے والی کچھ دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ اس ڈس انفارمیشن نیٹ ورک نے ’پاکستان نے ایران سے غداری کی‘ کا ابتدائی مواد جعلی ایرانی شناخت رکھنے والے ایران ٹی وی

(Iran TV) اور ایران نیشنل نیوز (Iran National News) جیسے بیرون ملک سے چلنے والے فیک اکاونٹس سے تیار اور شائع کیا، تاکہ یہ مستند معلوم ہو۔

ان اکاؤنٹس نے بغیر تصدیق کے دعویٰ کیاکہ پاکستان امریکا کے لیے تیل کی ترسیل میں مدد فراہم کررہا ہے، جس کے ذریعے مصنوعی ایرانی ردعمل پیدا کیا گیا۔

بعد ازاں افغان نیٹ ورک کے اکاؤنٹس نے اس بیانیے کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس مرحلے میں عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے بیانیے کو معاشی غداری اور مذہبی حساسیت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

بھارتی اکاؤنٹس نے اس پوری کارروائی میں بیانیہ سازی اور اسٹریٹجک کنٹرول فراہم کیا، جبکہ Times of Iran News نامی اکاؤنٹ نے جھوٹے دعوؤں کو عالمی سطح پر قابلِ اعتبار بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

سوشل میڈیا ہینڈلز تبدیل کر کے پراپیگنڈے کا فروغ

مزید شواہد سے پتا چلتا ہے کہ بھارتی اور افغان آپریٹرز ہم آہنگی کے ساتھ ایرانی شناخت اختیار کرکے مسلسل ہینڈل تبدیلی، مختلف ناموں کے استعمال اور پوسٹنگ کے ذریعے ایک ہی بیانیے کو تقویت دے رہے تھے۔

یہ آپریشن initiator → proliferator → amplifier ماڈل کے تحت چلایا گیا، جس میں جعلی ایرانی ذرائع ابتدائی مواد تیار کرتے، افغان اکاؤنٹس بیانیہ کو پھیلاتے اور بھارتی نیٹ ورکس اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے۔

مزید پڑھیں: 4ملکی ثالثی کانفرنس کی میزبانی ترکیہ کے بجائے پاکستان کو کیوں ملی؟ ترک وزیر خارجہ نے بتادیا

ماہرین کے مطابق یہ کوئی اتفاقی سوشل میڈیا سرگرمی نہیں بلکہ خطے میں بداعتمادی پیدا کرنے، مذہبی جذبات بھڑکانے، امن کی کوششیں سبوتاژ کرنے اور پاکستان کو سفارتی تنہائی میں ڈالنے کے لیے بھارت اور افغانستان پر مبنی ایک مکمل، منظم اور اسٹریٹجک انفارمیشن وارفیئر مہم تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp