جب بیٹرز کو باؤلر سے ہمدردی مہنگی پڑی

اتوار 29 مارچ 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تیرہ مارچ کو بنگلا دیش کے خلاف ون ڈے میچ میں سلمان علی آغا کے رن آؤٹ سے جس تنازع نے جنم لیا، اس سے اٹھنے والی گرد اب بیٹھ چکی ہے۔

پاکستانی بیٹر کے گیند اٹھا کر باؤلر کی خدمت میں پیش کرنے سے پہلے ہی مہدی حسن میراز نے انہیں رن  آؤٹ کر دیا لیکن سلمان آغا کا خیال، عمل کی صورت اختیار کر لیتا تو ان کے خلاف ’آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ‘ کی  اپیل بھی  کی جاسکتی تھی۔

کرکٹ میں بیٹر کا گیند کو ہاتھ سے چھونا یا اسے ہاتھ میں لینا قانون کو ہاتھ میں لینا ہے۔ پہلے یہ عمل ’ہینڈلڈ دی بال‘ کہلاتا تھا اور یہ آؤٹ ہونے کے مختلف طریقوں میں سے ایک طریقہ تھا لیکن 2017 میں اسے آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ کے زمرے میں ڈال دیا گیا۔

اس تمہید کا مقصد  ہینڈلڈ دی بال سے جڑی ایک بھولی بسری کہانی سنانا ہے۔

ہوا کچھ یوں تھا کہ 1979 میں آسٹریلیا کے خلاف پرتھ ٹیسٹ میں پاکستانی فیلڈر کی بے راہ تھرو کے بعد نان اسٹرائیکر اینڈ سے آسٹریلیوی بیٹر اینڈریو ہلڈچ نے گیند ہاتھ سے اٹھا کر سرفراز نواز کو دی تو انہوں نے احسان مند ہونے کے بجائے اپیل داغ دی اور امپائر نے انگلی کھڑی کر دی۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں دوسرا واقعہ تھا جب کسی کھلاڑی کو اس طریقے سے آؤٹ قرار دیا گیا۔ اس سے پہلے جنوبی افریقہ کے ولیم رسل اینڈین 1957 میں انگلینڈ کے خلاف ہینڈلڈ دی بال آوٹ ہوئے تھے۔ پاکستان کے محسن حسن خان بھی اس ڈھب سے  آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

عام طور پر کھلاڑی ہینڈلڈ دی بال سے اس وقت وکٹ گنواتے تھے جب وہ اپنے ہاتھ کی مدد سے گیند کو وکٹوں کی طرف جانے سے روکنے کے مرتکب ہوتے ۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیسمنڈ ہینز،  گراہم گوچ، اسٹیو وا اور مائیکل وان بھی اس طرح آؤٹ ہوئے ۔ اسٹیو وا کے معاملے میں تو یہ ہوا کہ ان کے خلاف  ایل بی ڈبلیو کی اپیل  ہوئی لیکن اس سے پہلے کہ اس کا فیصلہ آتا انہوں نے وکٹوں کا رخ کرتے  گیند کو ہاتھ سے روکا تو انڈین ٹیم کے حق میں ہینڈلڈ دی بال کا فیصلہ آ گیا۔

مہدی حسن اور سرفراز نواز کا معاملہ اس لیے اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی ہے کہ ان کا نشانہ وہ بیچارے بیٹر بنے جو نہ رنز لینے کی سعی کر رہے تھے اور نہ ہی وکٹ بچانے کے لیے  ہاتھ کو حرکت میں لائے تھے۔ بس باؤلر کی مدد کرنے کے جذبے میں مارے  گئے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ سلمان آغا اور ہلڈچ دونوں نان اسٹرائیکر  تھے ۔ سلمان علی آغا کا رن آؤٹ تو کل کی بات ہے اور اس کے بارے میں آپ بہت کچھ پڑھ اور سن چکے ہیں، اس لیے  سرفراز نواز اور ہلڈچ کے قضیے کی طرف چلتے ہیں جس کے بعد اس کہانی میں کچھ اور حوالے بھی آتے ہیں۔

 میں نے ایکسپریس اخبار کے لیے 15 برس پہلے سرفراز نواز سے انٹرویو میں ہلڈچ کے متنازع آوٹ  کے تناظر میں پوچھا تھا کہ  ’آپ کا عمل اسپورٹس مین سپرٹ کی خلاف ورزی نہیں تھا؟‘

 اس پر ان کا کہنا تھا:

’بالکل نہیں۔ اس میچ میں ایلن ہرسٹ نے سکندر بخت کو نان اسٹرائیکر اینڈ پر  رن آؤٹ (وارننگ دیے بغیر)  کر دیا تھا جس پر ہم سب کو غصہ تھا، اس لیے میں نے اس واقعہ کے ردعمل کے طور پر یہ سب کیا۔‘

’ایک غلط کام کے جواب میں ویسا ہی طرزعمل اپنانا کیا درست روش تھی؟‘

’میں کرکٹ میں بدلہ لینے پر یقین رکھتا تھا اور میرے خیال میں میں نے صحیح کیا۔‘

ایلن ہرسٹ کا سکندر بخت  اور سرفراز کا ہلڈچ کو  آؤٹ کرنا قواعد کی رو سے صحیح  لیکن کھیل کی اسپرٹ کے خلاف تھا۔  ان دونوں واقعات سے پہلے میلبرن ٹیسٹ میں جاوید میانداد نے بھی کھیل کی اسپرٹ کے منافی حرکت کی تھی۔

اس کی تفصیل پاکستان کے سابق لیفٹ آرم اسپنر نے اپنی کتاب ’اقبال قاسم اور کرکٹ ‘ میں کچھ یوں بیان کی ہے:

’راڈنی ہاگ نے ایک نو بال روکی اور پھر چند قدم آگے نکل کر وکٹ پر کسی جگہ کو بیٹ سے ٹھیک کرنے لگے۔ جاوید میانداد نے گیند اٹھائی اور اسٹمپ پر مار دی۔ امپائر نے قانون کے مطابق ہاگ کو آؤٹ قرار دے دیا۔ قانونی لحاظ سے فیصلہ درست تھا لیکن اخلاقاً یہ بات درست نہ تھی، اس لیے کہ  جاوید نے گیند پکڑتے ہوئے یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ رن آؤٹ کرنے جا رہے ہیں، وہ آہستہ آہستہ گیند کی طرف بڑھے اور گیند اٹھائی۔ ہاگ اس دوران بھول گئے کہ گیند ڈیڈ نہیں ہوئی تھی، جاوید نے دیکھا کہ وہ کریز چھوڑ کر کھڑے ہیں تو انہوں نے ہاگ کو آؤٹ کرنے کے لیے ہوشیار کیے بغیر گیند اسٹمپ پر مار دی۔ یہ اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف بات تھی۔ امپائر کے فیصلے پر ہاگ کو غصہ آیا اور انہوں نے بیٹ وکٹوں کو مارا اور چلے گئے۔‘

جاوید میانداد نے اپنی کتاب ‘کٹنگ ایج’  میں اپنے عمل کا دفاع کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہاگ کو امپائر کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے نزاع پیدا کیے بغیر چلے جانا چاہیے تھا۔  میانداد کی سوچ جو بھی ہو لیکن ان کی اس حرکت کو پاکستانی کپتان مشتاق محمد کی تائید حاصل نہیں تھی۔ اس لیے  صورت حال کی سنگینی کا احساس ہوتے ہی وہ  راڈنی ہاگ کو واپس بلانے کے لیے دوڑے تو سرفراز نواز نے ہاگ کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ مشتاق محمد نے ان کی بات نہیں مانی اور ناراض  بیٹر سے کہا کہ ہم اپیل واپس لیتے ہیں۔  پاکستانی کپتان نے امپائر کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو مک ہاروے نے ساتھی امپائر سے مشورے کے بعد اپنا فیصلہ تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔ مشتاق محمد نے ‘ان سائیڈ آؤٹ’ میں لکھا ہے کہ امپائرز کا مؤقف تھا کہ  اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کے بجائے  وہ کھیل کو کنٹرول کر رہے ہیں۔

مشتاق محمد نے لکھا ہے کہ تماشائی اس معاملے میں سرفراز کے کردار کو دیکھ رہے تھے، اس لیے جب وہ باؤنڈری پر فیلڈنگ کے لیے کھڑے ہوئے تو ان پر انہوں نے چیزیں پھینکیں اور سخت سست کہا۔ سرفراز نواز کی راڈنی ہاگ سے مخاصمت کا علم  ہمیں مشتاق محمد کی کتاب سے ہوتا ہے لیکن اگر آپ اس رن آؤٹ کی ویڈیو دیکھیں تو سرفراز جو نو بال کرنے کے بعد اگلی گیند کے لیے رن اپ کی طرف لوٹ رہے تھے میانداد کی اپیل کے بعد اچانک مڑتے ہیں اور صورت حال میں تبدیلی دیکھ کر  بھاگے بھاگے میانداد کو ان کے ’کارنامے‘ پر گلے لگا کر  تھپکی دیتے نظر آتے ہیں۔

دلچسپ بات ہے کہ ویڈیو میں کمنٹیٹر کے ذہن میں راڈنی ہاگ کے آؤٹ کے بارے میں ابہام نہیں تھا اور انہوں نے امپائر کے فیصلے کو درست قرار دیا اور جب ہاگ نے غصے میں بلے سے وکٹیں گرا دیں تو اس پر بھی کڑی تنقید کی۔ آسٹریلیوی پریس کا رویہ لیکن مختلف تھا۔

اقبال قاسم کے بقول’ اس واقعے پر آسٹریلیوی اخبارات نے پاکستان کھلاڑیوں کی مذمت کی، خاص طور پر جاوید میانداد پر بڑی تنقید کی گئی۔‘

اس ناخوشگوار واقعے نے  پاکستان کرکٹ ٹیم کی اس تاریخی جیت کا مزہ کرکرا کردیا جس میں سرفراز نواز کی غیر معمولی باؤلنگ کا بنیادی کردار تھا۔ انہوں  نے آسٹریلیا کی دوسری اننگز میں 9 کھلاڑی آؤٹ  کرکے ہاتھ سے نکلا ہوا میچ جتوا دیا۔ 7 وکٹیں صرف ایک رنز کے عوض حاصل کیں۔ گراہم یلپ رن آؤٹ  نہ ہوتے تو وہ ان کا 10 واں شکار بن سکتے تھے۔

سرفراز اور میانداد کی جوڑی کے بارے میں ایک دل چسپ بات کچھ عرصہ پہلے ایان چیپل کی کتاب  Chappelli: Life, Larrikins & Cricket  سے معلوم ہوئی جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ وہ اپنے کریئر میں گیند کو چھونے کی وجہ سے کبھی آؤٹ نہیں ہوئے جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ بیٹنگ کے دوران گیند کو حقارت سے دیکھتے تھے اور بیٹرز کے گیند کو پکڑتے ہوئے  دیکھنے کا منظر بھی ان کے لیے ہمیشہ پریشان کن رہا۔ بعض اوقات تو وہ کمنٹری کرتے ہوئے یہ تک کہہ ڈالتے:

Don’t touch it, son.

ایک مرحلے پر انہیں لگا کہ بلے بازوں کی طرف سے باؤلروں کو گیند پکڑانے کے حوالے سے وہ کچھ زیادہ ہی جذباتی ہیں تو انہوں نے اس معاملے میں سنیل گواسکر کی اپروچ جاننا چاہی۔

گواسکر نے انہیں بتایا کہ گیند اگر ان کے بوٹ کے آگے  پڑی ہوتی  تو بھی وہ اکثر اوقات اسے چھوتے نہیں تھے لیکن پھر انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ بعض دفعہ خاص طور پر پاکستان کے خلاف جھک کر گیند کے بجائے اس کے برابر سے گھاس کا تنکا اٹھا لیتے۔ اس پر دونوں خوب ہنسے۔ اس کے بعد گواسکر نے بتایا کہ جب وہ یہ کام کرتے تو 2 کھلاڑی پرجوش ہو جاتے۔ اس سے پہلے کہ گواسکر ان کا نام بتاتے۔ چیپل نے کہا کہ میں شرط لگا سکتا ہوں  کہ وہ  جاوید میانداد اور سرفراز نواز ہوں گے۔ گواسکر نے جواب دیا: بالکل۔

 گواسکر نے بتایا کہ اس کے بعد میانداد ان سے کہتے: چلو چلو گیند اٹھاؤ بڈھے۔

چیپل کے خیال میں گواسکر اگر میانداد کی خواہش پر عمل کرتے تو آؤٹ کے لیے سب سے پہلے میانداد اپیل کرتے جس کی سرفراز نواز فوراً پیروی کرتے کیوں کہ دونوں کھلاڑی میدان میں ہمیشہ دوسروں پر برتری  حاصل کرنے کے لیے مشہور تھے۔

جاوید میانداد  ’کٹنگ ایج ‘ کے ایک باب  ’مسٹر کنٹرو ورسی‘ میں  خود سے وابستہ تنازعات کے بارے میں موقف بیان کر چکے ہیں، ان دنوں سرفراز نواز کی آپ بیتی کی اشاعت کی خبرگرم ہے تو دیکھتے ہیں وہ کرکٹ میں اپنی ذات سے وابستہ نزاعی معاملات  کے بارے میں  کیا نقطۂ نظر اختیار کرتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp