بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک سابق فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) افضل ناصر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم حکام نے گرفتاری کی وجوہات فوری طور پر ظاہر نہیں کیں۔
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک برطرف فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) افضل ناصر کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس حکام نے پیر کے روز اس گرفتاری کی تصدیق کی۔
ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق ڈیٹیکٹو برانچ (ڈی بی) کے اہلکاروں نے افضل ناصر کو اتوار کی شب ڈھاکہ کے علاقے میرپور سے حراست میں لیا۔ ڈی بی کے جوائنٹ کمشنر محمد ناصرالاسلام نے اس کارروائی کی تصدیق کی ہے۔
حکام نے فوری طور پر گرفتاری کی وجوہات یا الزامات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
ذرائع کے مطابق افضل ناصر ماضی میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس میں مارچ 2006 سے مارچ 2008 تک بطور ڈائریکٹر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں 5 نومبر 2009 کو فوجی ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا۔ وہ جولائی 1984 میں بنگلہ دیش آرمی میں شامل ہوئے تھے اور ان کا تعلق ضلع نوآکھالی کے علاقے سین باغ سے بتایا جاتا ہے، جبکہ وہ حالیہ عرصے میں میرپور ڈی او ایچ ایس میں مقیم تھے۔
یہ گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب ملک میں سیکیورٹی ادارے وسیع پیمانے پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی 2007-08 کے نگراں حکومت کے دور سے منسلک دو متنازع سابق اعلیٰ فوجی افسران کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن سے تفتیش جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے بعد افضل ناصر کی گرفتاری سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔














