کبھی کبھار ایک بظاہر معمولی واقعہ کسی معاشرے کے اجتماعی شعور کا اصل چہرہ سامنے لے آتا ہے۔ حالیہ دنوں میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ایک سرکاری تقریب کے موقع پر گرنے کا واقعہ بھی کچھ ایسا ہی لمحہ تھا، جس نے نہ صرف ایک فرد کی استقامت کو نمایاں کیا بلکہ اس سے بڑھ کر پاکستان کے میڈیا اور سوشل میڈیا کے بدلتے رویے کی ایک مثبت تصویر بھی پیش کی۔
عام طور پر ہمارے ہاں ایسے واقعات سوشل میڈیا پر طنز و مزاح کا موضوع بن جاتے ہیں، جہاں سنجیدگی کی جگہ فوری ردعمل اور تفریح لے لیتی ہے۔ مگر اس بار منظر مختلف تھا۔ جیسے ہی اسحاق ڈار گرنے کے بعد فوراً سنبھلے اور اپنی مصروفیات جاری رکھیں، ویسے ہی مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں نے اس لمحے کو ایک ذمہ دارانہ زاویے سے پیش کیا۔ اس واقعے کو میمز یا تضحیک کا موضوع بنانے کے بجائے اسے حوصلے، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ کمٹمنٹ کی مثال کے طور پر دیکھا گیا۔
یہ تبدیلی معمولی نہیں، ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کسی بھی لمحے کو سیاق و سباق سے ہٹا کر وائرل کرنا آسان ہے، وہاں اجتماعی طور پر سنجیدگی اختیار کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شاید ہم ایک بالغ معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر جب معاملہ ریاستی نمائندگی کا ہو، تو الفاظ اور رویے دونوں کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
بعد ازاں جب اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ انہیں ہیئر لائن فریکچر ہوا ہے، تو اس واقعے کی سنجیدگی مزید واضح ہوگئی۔ اس کے باوجود پورا دن سرکاری ذمہ داریاں نبھانا محض ذاتی عزم نہیں بلکہ ایک ایسے رویے کی عکاسی ہے جو ملکی اجتماعی مفاد سے جڑا ہوتا ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم وہ اجتماعی ردعمل تھا جس میں میڈیا نے اس لمحے کو وقار کے ساتھ پیش کیا۔
یہ رویہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ عالمی سطح پر اس وقت پاکستان ایک حساس سفارتی مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ ثالثی کا کردار زیرِ بحث ہے۔ ایسے میں کسی بھی داخلی کمزوری یا غیر سنجیدہ تاثر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا نہ صرف قومی بیانیے کو نقصان پہنچا سکتا تھا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی غلط پیغام دے سکتا تھا۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارت جیسے حریف ممالک کی نظریں ہمیشہ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتی ہیں جہاں سے کسی منفی تاثر کو ہوا دی جا سکے۔ مگر اس بار پاکستانی میڈیا اور عوام نے اجتماعی طور پر اس امکان کو ختم کر دیا۔ یہ دراصل ایک غیر اعلانیہ قومی ہم آہنگی تھی، جہاں اختلافات اور تنقید اپنی جگہ مگر ریاستی وقار کو مقدم رکھا گیا۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قومی مفاد صرف پالیسی سازی یا سفارتی محاذ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق ہمارے روزمرہ رویوں، ردعمل اور ترجیحات سے بھی ہوتا ہے۔ جب میڈیا اور عوام مل کر سنجیدگی، وقار اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں تو وہ نہ صرف ایک مثبت داخلی ماحول پیدا کرتے ہیں بلکہ دنیا کو بھی ایک مضبوط اور متحد قوم کا پیغام دیتے ہیں۔
یوں اسحاق ڈار کے گرنے کا لمحہ محض ایک حادثہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک آئینہ بن گیا۔ جس میں ہم نے اپنی اجتماعی بلوغت، ذمہ داری اور قومی شعور کی ایک بہتر جھلک دیکھی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













