کسی نے سوچا تھا کہ ساری دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی ہو گی اور ایسے میں پاکستان اس بین الاقوامی تنازعے میں ثالث بنے گا؟ کیا کسی کے گمان میں بھی تھا کہ دنیا کی تمام طاقتوں کی نگاہوں کا مرکز پاکستان کی سفارت کاری ہو گی۔ کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ دنیا کی سب سے طاقتور مملکت امریکا کا صدر ہمارے فیلڈ مارشل، وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی خوشامد پر مجبور ہو گا! کیا کبھی کسی کو خیال بھی آیا کہ پاکستان جو دہائیوں سے دہشتگردی کی جہنم میں جل رہا ہے وہی پاکستان دنیا میں امن کا پیامبر کہلائے گا!
یہ وہی پاکستان ہے جہاں عمران خان کے دور میں امریکی صدر نے تین سال تک وزیراعظم پاکستان سے تہنیت کا پیغام وصول کرنے کے لیے ایک تیس سیکنڈ تک کی کال ریسپانڈ نہیں کی۔ اب اسی پاکستان کے قصیدے امریکی صدر کی زبان پر رواں ہیں۔ وہ فیلڈ مارشل کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتا۔ وہ وزیراعظم پاکستان کی دوستی کا دم بھرتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے یہی پاکستان تھا اور کسی ملک کا فرماں روا پاکستان آنے کی خواہش نہیں کرتا تھا۔ آج ساری دنیا کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ امریکا ایران تنازعے میں تصفیہ کن میٹنگ بھی پاکستان میں ہونے کا امکان ہے۔
ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ وہ وقت دیکھ رہے ہیں جب پاکستان کا پرچم ساری دنیا میں سربلند ہو رہا ہے۔ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ وہ وقت دیکھ رہے ہیں جب پاکستان کا نام امن کے استعارے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ اس وقت میں جی رہے ہیں جب دنیا پاکستان پر ’آفرین‘، ’آفرین‘ کے نعرے لگا رہی ہے۔ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ اس عہد کے شاہد ہیں جہاں ہم نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو ناکوں چنے چبوائے اور شکست فاش دی۔ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ اس دور میں زندہ ہیں جہاں سول ملٹری تعلقات میں کوئی رخنہ نہیں۔ جہاں ہم سب کے نصاب اور نصیب میں پاکستان کی ترقی، فلاح اور عظمت کا گواہ ہونا لکھ دیا گیا ہے۔ تاریخ کے ان تاریخی لمحات میں اس ارضِ پاکستان سے رشتہ رکھنا، اسی دھرتی کا فرزند کہلانا کتنے نصیب کی بات ہے۔
یہی پاکستان اس سے پہلے بھی دنیا کی نظروں میں رہتا تھا مگر خبروں کی نوعیت مختلف تھی۔ زاویہ مختلف تھا۔ کبھی ہمارا ذکر اے پی ایس سانحے کی وجہ سے ہوتا۔ کبھی ہم بم دھماکوں کی وجہ سے دنیا میں بریکنگ نیوز بنتے۔ کبھی انسانی حقوق کی پامالی اور کبھی جمہوریت پر لشکر کشی ہماری شہرت کا سبب بنتی۔ جن باتوں سے منہ چھپاتے تھے وہ ہمارا تعارف بن چکی تھیں۔ جن علتوں سے ہم نبرد آزما تھے وہ ہمارا مقدر ہو چکی تھیں۔ جن جہالتوں سے ہم جان چھڑاتے تھے وہ ہماری شناخت بن چکی تھیں۔
جانے یہ کسی کی دعاؤں کا اثر ہے یا موجودہ قیادت کی محنتوں کا ثمر۔ اب دنیا کی نظر میں پاکستان کا تعارف اور تعریف بدل چکی ہے۔ اب ہم بے بسی کی تصویر نہیں، امن کا استعارہ ہیں۔ اب ہم لاچارگی کا نشان نہیں، عظمت و رفعت کی علامت ہیں۔ اب دنیا ہمیں خطرے کے طور پر نہیں، حلیف کے طور پر دیکھتی ہے، دوست سمجھ کر بات کرتی ہے، مدبر سمجھ کر مشورہ کرتی ہے۔ یہ سب خوش قسمتی کی دلیلیں ہیں، یہ سب خوش نصیبی کی باتیں ہیں۔
کسی کا مصرعہ پاکستان پر صادق آتا ہے کہ ’کسی کے ہاتھ مسلسل بچا رہے ہیں اسے‘ ہم بہت شکرگزار ہیں اس موجودہ قیادت کی تکون کے۔ فیلڈ مارشل کے تدبر کے، وزیراعظم پاکستان کی دانش کے اور وزیر خارجہ کی انتھک محنت کے۔ مگر یہ مقام صرف محنتوں سے نہیں بنتا، یہاں بات محبتوں اور برکتوں پر آ جاتی ہے۔ عالم اسلام میں یہ رتبہ قادرِ مطلق کے احسان کے سوا کچھ نہیں، اس کے کرم کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اس دور میں ہماری خوش نصیبی کی انتہا نہیں۔ ہماری خوش بختی کی مثال نہیں۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے جہاں ہم خوش نصیب ہیں، وہیں بد نصیبی میں بھی کم نہیں۔ اس سے بڑھ کر اور بد نصیبی کیا ہو گی کہ جب دنیا ہمارے قصیدے پڑھ رہی ہے، جب دنیا ہماری شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہی ہے، اسی عالم میں ہم میں سے ہی کچھ بدنصیب اس صورت حال میں بھی وطن کی بھد اڑا رہے ہیں۔
یہ کیا کم بدنصیبی ہے کہ اس موقع پر پاکستان کے کچھ اپنے لوگ پاکستان دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔ جس ملک میں رہتے ہیں اسی ملک کی توہین کر کے ذلت کے مزے لوٹتے ہیں۔ خوش رنگ، خوش نما پاکستان کے بجائے لوگوں کو ارضِ پاک کی سیاہ تصویر دکھاتے ہیں۔
یہ بدنصیبی نہیں تو اور کیا ہے کہ جس فوج نے دنیا کی ایک بڑی عسکری طاقت کو دھول چٹائی، اسی کے خلاف سوشل میڈیا کے کچھ لوگ محاذ بنا کر بیٹھے ہیں۔ یہ ضمیر فروش اسی سے ڈالر کماتے ہیں۔ یہ لاعلاج جونکیں عمران خان کے بیٹے قاسم خان کی پاکستان کے خلاف سازشوں کا بھی دفاع کرتے ہیں۔ یہ بدبخت اسحاق ڈار کی ملک کے لیے کاوشوں کو بھلا کر ان کے گرنے کو موضوع بناتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں پاکستان کی توقیر راس نہیں آتی۔ اس وطن کے پرچم کو سربلند دیکھ کر انہیں جلن ہوتی ہے۔ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر یہ اس وطن کی بدنامی سے گریز نہیں کرتے۔ اپنے سیاسی عزائم کے لیے یہ اس خطۂ پاک کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے۔
ہم خوش نصیب بھی بہت ہیں اور بدنصیبی بھی کمال کی ہے۔ خوش نصیبی کی وجہ ظاہر ہے اس ارضِ پاک کا دنیا میں موجودہ مقام اور منصب ہے اور بدنصیبی کی وجہ بھی سامنے ہے۔ یہاں آستین کے سانپ موجود ہیں جنہیں اس ملک میں خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہیں۔ جنہیں دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کی عادت ہوتی ہے۔ جنہیں اس مادر وطن کے خلاف بات کر کے تسکین ملتی ہے۔
واصف علی واصف کی بات میں بصد احترام تحریف کرنے کی جسارت کر رہا ہوں: ’خوش نصیب وہ ہے جو اپنے وطن سے خوش ہے، اور بدنصیب وہ ہے جو چند ٹکوں کی خاطر اپنی ماں دھرتی کی برائی پر مامور ہے‘
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













