برطانیہ میں فل کریم دودھ کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اب صارفین نیم چکنائی اور اسکِمڈ دودھ کے مقابلے میں اسے ترجیح دینے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں نے ایک سال میں کتنا دودھ پیا اور کتنا گوشت کھایا؟
برطانیہ کی معروف گورنزی ڈیری کے جمع کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق فل فیٹ دودھ کی فروخت سنہ 2019 سے سنہ 2025 کے دوران تقریباً 30 فیصد بڑھ گئی۔
ڈیری نے اپنے دودھ کی فروخت کا حوالہ دیتے ہوئے بھی بتایا کہ وہ 568,000 لیٹر سے بڑھ کر 750,000 لیٹر تک پہنچی۔
ڈیری آپریشنز کے ڈائریکٹر اینڈریو ٹیبل کے مطابق لو فیٹ دودھ کی فروخت میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے جبکہ اسکِمڈ دودھ کی مانگ میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ رجحان صرف ایک مخصوص ڈیری کی کچھ مخصوص شہروں میں فروخت تک محدود نہیں بلکہ برطانیہ میں عمومی رحجان کے مطابق ہے۔ بڑے سپر مارکیٹ چین ٹیسکو نے بھی فل فیٹ دودھ کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ رپورٹ کیا ہے جس میں سنہ 2025 میں پچھلے 2 سال کے مقابلے میں 3 ملین لیٹر سے زائد اضافی فروخت شامل ہے۔
مزید پڑھیے: کیا کافی عرصہ چھوڑ دینے کے بعد گوشت دوبارہ کھانا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے؟
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ فل فیٹ ڈیری مصنوعات متوازن غذا کے حصے کے طور پر فائدہ مند ہو سکتی ہیں خاص طور پر نوجوانوں کے لیے جو زیادہ پروٹین اور کم پروسیس شدہ خوراک تلاش کر رہے ہیں۔
منیجنگ ڈائریکٹر جیرسی ڈیری ایمون فینلن کے مطابق نوجوان صارفین زیادہ پروٹین کے لیے فل فیٹ دودھ کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور یہ قدرتی اور کم پروسیس شدہ خوراک کے عالمی رجحانات کے عین مطابق ہے۔
مزید پڑھیں: مریم نواز کا خواتین کو خود کفیل بنانے کے لیے مفت گائے اور بھینسیں دینے کا اعلان
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف برطانیہ بلکہ دیگر ملکوں میں بھی قدرتی اور مکمل دودھ کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو صارفین کی صحت، پروٹین کی ضروریات اور قدرتی خوراک کی ترجیحات سے متعلق ہے۔














