گل پلازا جوڈیشل کمیشن نے ڈی جی ایس بی سی اے (سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز پر عمل درآمد سے متعلق قانونی وضاحت طلب کرلی ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی کے گل پلازا میں دوبارہ آگ لگنے کا واقعہ، مشتبہ شخص زیرِ حراست
کمیشن نے سوال اٹھایا ہے کہ گل پلازا جیسی عمارتوں میں ریگولیشنز پر عمل درآمد کی ذمہ داری کس ادارے پر عائد ہوتی ہے اور ایس بی سی اے کا کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز کے نفاذ اور نگرانی میں کیا کردار ہے۔
کمیشن نے سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979 اور متعلقہ ریگولیشنز کی روشنی میں تمام وضاحتیں طلب کی ہیں۔ تمام جوابات اور متعلقہ دستاویزات یکم اپریل تک کمیشن سیکریٹریٹ میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سرکاری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آگ رواں برس 17 جنوری کی رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی تھی۔ آگ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک پھولوں کی دکان سے لگی، جہاں ایک بچے کے ہاتھوں حادثاتی طور پر بھڑک اٹھی، جو بعد ازاں ائرکنڈیشن کے ڈکٹس کے ذریعے تیزی سے پلازہ کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔
مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازا: میونسپل کمشنر نے جوڈیشل کمیشن میں کیا موقف اختیار کیا؟
کمشنر کراچی کی جانب سے تیار کی گئی یہ رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کی گئی تھی، جس میں 79 قیمتی جانوں کے ضیاع کی تصدیق کی گئی تھی۔














