پاک افغان طورخم بارڈر کو ایک بار پھر کھول دیا گیا ہے، جس کے بعد افغان باشندوں کی ملک بدری کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں زیر حراست 157 افغان باشندوں کو حمزہ بابا ٹرانزٹ کیمپ منتقل کیا گیا، جہاں ان کی قانونی کارروائی مکمل کی گئی۔
قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد غیرقانونی افغان شہریوں کو طورخم سرحد کے راستے افغانستان روانہ کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈالر اسمگلنگ: طورخم بارڈر کا ڈالر ریٹ سے کیا تعلق؟
حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل جاری رہے گا اور غیرقانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق عمل میں لائی جا رہی ہے۔
پاکستان نے منگل کے روز طورخم بارڈر کو 4 روزہ بندش کے بعد دوبارہ کھول دیا، تاکہ غیر دستاویزی افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل جاری رکھا جا سکے۔
اس سے قبل کشیدگی کے باعث ایک ماہ تک بند رہنے کے بعد سرحد کو صرف ایک دن کے لیے کھولا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: پاک افغان تعلقات میں بہتری: کیا طورخم بارڈر سے تجارت پر اثر پڑے گا؟
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ عارضی طور پر کھولنے کا فیصلہ افغان حکام کی درخواست پر کیا گیا، تاکہ پاکستانی جیلوں میں موجود افغان شہریوں کی ملک بدری ممکن بنائی جا سکے۔
حکام کے مطابق اگر صورتحال پرامن رہی اور کوئی سیکیورٹی واقعہ پیش نہ آیا تو بارڈر وطن واپسی کے عمل کے لیے کھلا رہے گا۔
مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور طورخم گزرگاہ کی بندش، سرحدی علاقہ خالی ہونے لگا
طورخم سرحد کو اس سے قبل 26 مارچ کو ایک ماہ تک جاری جھڑپوں کے بعد دوبارہ کھولا گیا تھا، تاہم 27 مارچ کو ایک بار پھر بند کر دیا گیا جب اطلاعات آئیں کہ افغان فورسز نے سرحد کے قریب پاکستانی چوکی پر فائرنگ کی۔
ابتدائی طور پر یہ بندش 26 فروری کو ہونے والی شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد عمل میں آئی تھی، جس کی وجہ افغانستان میں مبینہ سرحد پار عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فضائی کارروائی بتائی گئی تھی۔














