کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر 2 کیبل بنانے والی کمپنیوں پر مجموعی طور پر 26 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
منگل کو جاری بیان کے مطابق سی سی پی نے نیوایج کیبلز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر 7 کروڑ 50 لاکھ روپے جبکہ جی ایم کیبلز اینڈ پائپس (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر 19 کروڑ 2 لاکھ 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔
دونوں کمپنیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے ڈیلرز کو مقررہ حد سے زیادہ رعایت دینے سے روک رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ری سیل پرائس کا تعین: مسابقتی کمیشن نے 2 کیبل کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے
سی سی پی نے تحقیقات کا آغاز موصولہ معلومات اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر کیا، جن میں کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ پالیسی سرکلرز بھی شامل تھے۔
ان دستاویزات سے ظاہر ہوا کہ ڈیلرز کو مخصوص رعایتی حد سے کم قیمت پر فروخت کی اجازت نہیں تھی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں ڈیلرشپ ختم کرنے جیسی سزائیں بھی مقرر تھیں۔
ابتدائی جائزے کے بعد کمیشن نے مسابقتی ایکٹ 2010 کی دفعہ 37(1) کے تحت باقاعدہ انکوائری کی منظوری دی اور قرار دیا کہ دونوں کمپنیوں نے بادی النظر میں دفعہ 4 کی خلاف ورزی کی ہے، کیونکہ انہوں نے کم از کم ری سیل قیمتوں پر پابندیاں عائد کیں۔
مزید پڑھیں:مسابقتی کمیشن آف پاکستان اور چین کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی منظوری
تحقیقات کے مطابق نیوایج نے یہ پالیسی ڈیلرشپ معاہدوں کے ذریعے نافذ کی، جبکہ جی ایم کیبلز نے ریٹ کنٹرول نوٹسز اور دیگر ہدایات کے ذریعے اسی نوعیت کی پابندیاں لگائیں۔
انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر سی سی پی نے کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے۔ سماعت اور شواہد کے تفصیلی جائزے کے بعد کمیشن نے فیصلہ دیا کہ یہ اقدامات مسابقت کو محدود کرنے کے مترادف ہیں۔
’۔۔۔کیونکہ اس سے ایک ہی برانڈ کے ڈیلرز کے درمیان قیمتوں کا مقابلہ ختم ہو جاتا ہے اور صارفین کے انتخاب پر منفی اثر پڑتا ہے۔‘
سی سی پی کے مطابق یہ پابندیاں باضابطہ سرکلرز کے ذریعے نافذ کی گئیں اور ان پر عملدرآمد کے لیے ڈیلرز کو معطل یا فارغ کرنے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔
مزید پڑھیں: اسٹاربکس لوگو کا غیرقانونی استعمال لاہور کے کیفے کو کتنا مہنگا پڑا؟
جرمانے کے تعین میں کمیشن نے نوٹ کیا کہ نیوایج نے کارروائی کے دوران تعاون کیا، جبکہ جی ایم کیبلز نے انکوائری کے آغاز کے بعد بھی خلاف ورزیاں جاری رکھیں اور دستاویزی شواہد سے انکار کی کوشش کی۔
اسی بنیاد پر جی ایم کیبلز پر مالی سال 24-2023 کے سالانہ کاروبار کا 5 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا۔
کمیشن نے دونوں کمپنیوں کو 60 روز کے اندر جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے، بصورت دیگر روزانہ 5 لاکھ روپے اضافی جرمانہ عائد ہوگا۔
مزید پڑھیں:سی سی پی کا ڈائمنڈ پینٹ کو گمراہ کن مارکیٹنگ پر 50 لاکھ روپے جرمانہ
مزید برآں، کمپنیوں کو فوری طور پر قیمتوں سے متعلق پابندیاں ختم کرنے، ڈیلرز کو آزادانہ قیمت مقرر کرنے کی اجازت دینے اور مقررہ مدت میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
نیوایج کو خاص طور پر اپنے ڈیلرشپ معاہدوں سے رعایت کی حد سے متعلق شقیں ختم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔













