چین میں تدفین کے قواعد سخت، ’بون ایش اپارٹمنٹس’ پر پابندی عائد

منگل 31 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کی حکومت نے جلائی گئی لاشوں کی راکھ سستے رہائشی فلیٹس میں رکھنے کے عمل پر پابندی عائد کر دی ہے۔

یہ رجحان حالیہ برسوں میں اس وقت مقبول ہوا جب شہریوں نے مہنگے ہوتے جنازہ اخراجات سے بچنے کے لیے کمزور ہاؤسنگ مارکیٹ کا فائدہ اٹھانا شروع کیا۔

ایسے فلیٹس، جنہیں عام طور پر ’بون ایش اپارٹمنٹس‘ کہا جاتا ہے، اکثر خالی یا کم آباد رہائشی عمارتوں میں ہوتے ہیں جہاں کچھ خاندان اپنے پیاروں کی راکھ محفوظ رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی اے آئی ایپ سیڈانس نے ہالی ووڈ میں ہلچل مچا دی

مقامی میڈیا کے مطابق یہ طریقہ عوامی قبرستان میں جگہ خریدنے کے مقابلے میں سستا پڑتا تھا اور اس سے خاندانوں کو مقام پر زیادہ اختیار بھی ملتا تھا۔

جرمنی کی ایرفرٹ یونیورسٹی کے ماہر کارسٹن ہرمن-پیلاتھ کے مطابق اس طریقے سے ایک تیر سے دو شکار ہوتے تھے، یعنی یہ سرمایہ کاری بھی بن جاتی تھی اور مذہبی رسومات کی ادائیگی بھی آسان ہو جاتی تھی۔

تاہم پیر کے روز نافذ ہونے والے نئے قواعد میں واضح طور پر رہائشی گھروں کو راکھ دفنانے کے لیے استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: چین کا پاکستان کی ٹیکسٹائل و لیدر صنعتوں کی اپ گریڈیشن میں تعاون کا اعلان

چینی میڈیا کے مطابق ایسے فلیٹس کی شناخت اکثر بند کھڑکیوں یا مسلسل گرے ہوئے پردوں سے ہوتی تھی۔

کمیونسٹ پارٹی کے زیر انتظام شائع ہونیوالے اخبار ’لیگل ڈیلی‘ کے مطابق، ایک فلیٹ کے اندر جھانک کر دیکھا جائے تو وہاں ایک سیاہ ڈبہ، اس کے ساتھ 2 شمع دان اور ایک سیاہ و سفید تصویر رکھی ہوئی نظر آئے گی، جو چین میں مرنے والوں کی یادگار کے طور پر عام ترتیب ہے۔

یہ پابندی چنگ منگ فیسٹیول سے چند روز قبل لگائی گئی ہے، جب لوگ اپنے مرحوم عزیزوں کی قبروں پر جا کر صفائی کرتے اور روایتی نذرانے پیش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا میں چینی روبوٹس پر پابندی کے لیے قانون سازی کی تیاری

چینی کابینہ کے مطابق انسانی باقیات صرف مخصوص مقامات جیسے سرکاری قبرستانوں میں ہی دفن کی جا سکتی ہیں۔ تاہم بڑھتی عمر کی آبادی کے باعث قبرستانوں میں جگہ کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور اموات کی شرح پیدائش سے بڑھ رہی ہے۔

سن 2020 کے ایک سروے کے مطابق، جنازے کے اخراجات ملک کی اوسط سالانہ آمدنی کے تقریباً نصف تک پہنچ گئے تھے۔

اسی تناظر میں منگل کو چینی حکام نے جنازہ خدمات کی قیمتوں میں دھوکہ دہی اور شفافیت کی کمی کو ختم کرنے کے لیے نئے قواعد بھی متعارف کرائے تاکہ عوام پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب، چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت میں غیر معمولی تیزی

دوسری جانب جائیداد کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں کیونکہ صارفین کا اعتماد کمزور ہے اور پراپرٹی سیکٹر کا بحران برقرار ہے۔

2020 سے بڑے تعمیراتی ادارے قرضوں اور رکے ہوئے منصوبوں کا شکار ہیں، خاص طور پر اس وقت سے جب حکومت نے حد سے زیادہ قرض اور قیاس آرائیوں پر پابندیاں سخت کر دی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp