بین الاقوامی سطح پر مصنوعی ذہانت اور روبوٹ ٹیکنالوجی کے مقابلے کے تیز ہونے کے پیش نظر امریکا نے سیکیورٹی خدشات کے باعث چینی روبوٹس کے استعمال کو محدود کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
امریکی سینیٹرز ٹام کاٹن اور چک شومر نے نیا قانون پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کے تحت امریکی حکومت کی تمام ایجنسیوں کو چینی روبوٹس اور دیگر حریف ممالک کے تیار کردہ غیرمستقل زمینی نظام استعمال کرنے سے روکا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ویب سمٹ میں چینی روبوٹ نے دھوم مچا دی
سینیٹرز نے خبردار کیا ہے کہ یہ روبوٹس حساس معلومات اکٹھا کرنے یا دور سے کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔ ٹام کاٹن کا کہنا ہے کہ چین میں تیار شدہ روبوٹس افراد کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ چک شومر نے کہا کہ چینی کمپنیاں امریکی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کی کوشش کررہی ہیں۔
یہ اقدام امریکا میں چینی ٹیکنالوجی کے خلاف دیگر حفاظتی اقدامات کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ حال ہی میں وفاقی کمیونیکیشن کمیشن نے کچھ غیرملکی تیار کردہ روٹرز کو سیکیورٹی خدشات کے باعث پابندی کی فہرست میں شامل کیا اور چینی ڈرونز پر بھی پابندی لگانے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکنالوجی میں چین کی برق رفتار پیشرفت، فروری میں شروع ہونے والا چینی ’سالِ گھوڑا‘ اور اس کی اہمیت
قانون کے منظور ہونے کی صورت میں امریکی کمپنیاں فائدہ اٹھا سکیں گی، جو صنعتی اور گھریلو مقاصد کے لیے روبوٹس تیار کررہی ہیں، جبکہ چینی کمپنیاں عالمی سطح پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گی۔
قانون میں امریکی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے محدود استثنا بھی رکھا گیا ہے تاکہ وہ روبوٹس کا مطالعہ کرسکیں، بشرطیکہ کوئی معلومات بیرون ملک منتقل نہ ہو۔














