عالمی مارکیٹ میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے بارے میں متضاد اطلاعات کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 115 ڈالر سے بڑھ کر 118 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 103 ڈالر فی بیرل پر مستحکم ہے۔
یہ بھی پٹھیں:وزیر پیٹرولیم سے فرانسیسی سفیر کی ملاقات، توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تنازع کے باعث تیل کی سپلائی میں خطرات برقرار ہیں، جس سے عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ یو اے ای کا مربن خام تیل بھی 3 فیصد اضافے کے ساتھ 121 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔ ڈاؤ انڈیکس میں 2.5 فیصد، ایس اینڈ پی 500 میں 2.91 فیصد اور نیسڈیک میں 3.83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے سرمایہ کاروں میں امید کی لہر دیکھی گئی۔

یہ صورتحال عالمی توانائی اور مالیاتی مارکیٹس میں ایران کے تنازع کے اثرات کی عکاس ہے، اور سرمایہ کار اس وقت دنیا بھر میں تیل اور اسٹاک مارکیٹس پر ہونے والے ممکنہ اثرات کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔














