بھارتی بینک میں کروڑوں روپے کا گولڈ لون اسکینڈل، بینک کو 2 سال بعد پتا چلا

بدھ 1 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی شہر ناگپور میں واقع ICICI بینک کی 9 برانچوں میں 23 کروڑ روپے کے گولڈ لون فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ بینک کے اندرونی آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ قرض کے لیے جمع کروایا گیا سونا جعلی تھا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی ریاست گجرات میں کریڈٹ کارڈ فراڈ سے دلبرداشتہ ہوکر 3 افراد کی خود کشی، ملزم گرفتار

یہ مبینہ فراڈ اس وقت سامنے آیا جب بینک نے اپنے ’گولڈ لون‘ پورٹ فولیو کا اندرونی آڈٹ کروایا۔ آڈٹ کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ بینک کی 9 مختلف برانچوں میں قرض کے عوض رکھے گئے زیورات درحقیقت سونے کے نہیں بلکہ جعلی تھے۔

دھنتولی پولیس نے ICICI بینک کے زونل آفس کے ملازم دھننجے رمیش ٹھیٹے کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت پر فراڈ کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ مبینہ فراڈ جنوری 2023 سے اکتوبر 2025 کے درمیان انجام دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق کل 195 کھاتہ داروں نے دھوکہ دہی سے یہ قرضے حاصل کیے۔

پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس اسکینڈل میں بینک کے ملازمین یا افسران بھی ملوث تھے، کیونکہ سونے کی اصلیت کی تصدیق کرنے والے ویلیوورز کی منظوری یا ’گرین سگنل‘ کے بغیر اتنی بڑی رقم کے قرضے حاصل کرنا ناممکن ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

باغبانپورہ میں اسکول کی چھت گر گئی، 10 سالہ بچہ جاں بحق، 4 مزدور زخمی

مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان پر پابندی، اسرائیلی پارلیمان سے متنازع بل  کی ابتدائی منظوری

سام سنگ کا نیا فون لانچ کے لیے تیار،کیا یہ اب تک کا سب سے جدید فون ثابت ہوگا؟

واٹس ایپ گروپ ایڈمن ہر پوسٹ کا ذمہ دار نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا اہم ترین فیصلہ

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز