روس نے انٹرنیٹ پر کنٹرول مزید سخت کرتے ہوئے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد شہریوں کی غیر ملکی پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرنا ہے۔
روسی ڈیجیٹل وزیر کے مطابق وی پی این سروسز کو نشانہ بنانے کا مقصد ان کے استعمال میں کمی لانا اور ایسے پلیٹ فارمز تک رسائی روکنا ہے جو حکومتی ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتے۔ وی پی این کو عام طور پر صارفین سنسرشپ سے بچنے اور بلاک شدہ ویب سائٹس تک رسائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں 5جی انٹرنیٹ کی آمد سے اسٹریمنگ اسپیڈز میں 3 سے 5 گنا اضافہ متوقع
حکام کے مطابق حالیہ مہینوں میں ملک بھر میں ‘بڑا کریک ڈاؤن’ جاری ہے، جس کے دوران موبائل انٹرنیٹ سروس میں رکاوٹیں، پیغام رسانی کی ایپس کی بندش اور ماسکو سمیت دیگر شہروں میں کمیونیکیشن نظام کو محدود کیا گیا ہے۔ حکومت کو بڑے پیمانے پر معلوماتی رابطوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مزید اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں۔
روس نے واٹس ایپ اور ٹیلیگرام جیسی معروف ایپس کو بھی بلاک کر دیا ہے، جس کے بعد حکومت نے ‘میکس’ نامی ایک نئی مقامی سوشل میڈیا ایپ متعارف کروائی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایپ بغیر انکرپشن کے کام کرتی ہے، جس سے صارفین کی پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: دنیا بھر میں غیر رجسٹرڈ وی پی این سیکیورٹی خطرہ قرار، پاکستان میں بھی نگرانی اور قواعد مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور
فرانسیسی سائبر سیکیورٹی کمپنی کے سربراہ بپتست رابرٹ کے مطابق ‘اس ایپ کے ذریعے گزرنے والا تمام ڈیٹا دراصل ریاست کی دسترس میں ہو سکتا ہے’۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی پلیٹ فارمز اکثر ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جس کے باعث ان کے خلاف کارروائیاں ضروری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جنوری کے وسط تک روس 400 سے زائد وی پی این سروسز کو بلاک کر چکا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 70 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔













