القاعدہ کا پاکستانی سہولت کار 16سال بعد گوانتا نومو بے سے رہا

جمعہ 3 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی فوج نے ایک سولہ سال بعد پاکستانی نژاد امریکی شہری کو گوانتانامو بے کی جیل سے رہا کر دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایک پاکستانی جسے سی آئی اے نے تشدد کا نشانہ بنایا اور القاعدہ کی مدد کرنے کا اعتراف کرنے کے بعد اسے 16 برس تک گوانتانامو بے جیل میں رکھا گیا، کو رہا کر دیا ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی اور القاعدہ برصغیر کے چار رہنما عالمی دہشت گرد قرار
2003 میں امریکی حکام نے ماجد خان کو گرفتار کیا تھا اور گوانتانامو بے میں بھیجنے سے قبل ان سے تین سال تک امریکی انٹیلیجنس کے اہلکاروں نے پوچھ گچھ کی تھی۔

ماجد خان نے 2012 میں پاکستان کے صدر کے قتل کی سازش میں شامل ہونے اور انڈونیشیا کے ہوٹل پر بم حملے کی منصوبہ بندی کے لیے مَنی کوریئر کے طور پر کام کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

ان کو 26 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن تعاون کے معاہدے کی بنیاد پر ان کو 2022 میں رہا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اپنی سزا کے کیس کی سماعت کے دوران ماجد خان وہ پہلے اہم قیدی ہیں جنہوں نے امریکی فوجی عدالت میں یہ بیان دیا کہ ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کو کئی دنوں تک بغیر خوراک اور کپڑوں کے رکھا گیا اور سی آئی اے کے تفتیش کاروں نے ان کو کئی مرتبہ مارا پیٹا اور ریپ بھی کیا۔

ماجد خان نے کہا کہ انہوں نے شروع ہی میں اپنے کیے کا اعتراف کا کیا تھا تاہم کئی برسوں تک ان کو بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔

فائل فوٹو (nytimes.com)

’جتنا میں ان کے ساتھ تعاون کرتا اور معلومات دیتا تو مجھے اتنا زیادہ ہی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔‘

پینٹاگون نے کہا ہے کہ ماجد خان نے اپنے تعاون کے معاہدے کا احترام کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی سزا میں کمی کی گئی ہے اور کیریبئن اور وسطی امریکی ملک بیلیز نے ان کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ماجد خان کے وکلا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کو زندگی نے ایک اور موقع دیا ہے اور ان کو اپنے کیے پر سخت افسوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بیلیز میں ایک ریستوران کھولیں گے یا فوڈ ٹرک کا کام شروع کریں گے۔
میں ایک زبردست خانساماں ہوں اور اپنے نئے ملک میں پاکستانی کھانوں کو متعارف کرواؤں گا۔

گوانتانامو بے میں اب بھی 34 افراد قید ہیں جن میں 20 کی رہائی کی منظوری دی گئی ہے۔ امریکی حکومت کو ان کے لیے کسی تیسرے ملک کی تلاش ہے چاہے وہ ان کا آبائی ملک ہو یا کوئی اور ملک۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار