سپریم کورٹ آف پاکستان نے گجرات کی سیشن عدالت کے احاطے میں قتل کے مقدمے میں ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت وکیلِ ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ 2010 میں ملزم کے بھائی کو سیشن عدالت کے احاطے میں قتل کیا گیا، جبکہ ایک سال بعد اسی عدالت کے احاطے میں مبینہ قاتل کو بھی قتل کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: قصور فائرنگ کیس: سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ برقرار
جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ واقعہ کب پیش آیا اور اس وقت ملزم کی عمر کیا تھی؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ واقعہ 2011 کا ہے، اس وقت ملزم کی عمر 21 سال تھی جو اب 36 سال ہو چکی ہے۔
وکیلِ ملزم نے مزید مؤقف اپنایا کہ ملزم اپنی عمر قید پوری کر چکا ہے اور نیلسن منڈیلا رولز کے مطابق ایک سزا مکمل ہونے کے بعد دوسری سزا نہیں دی جا سکتی۔
کیس کی سماعت کے دوران شواہد پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ وکیل کے مطابق جائے وقوعہ سے 3 خول برآمد ہوئے جن میں سے 2 پستول سے میچ کرتے تھے، جبکہ تیسرے خول کے بارے میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ وہ کہاں سے آیا۔
مزید پڑھیں: والد کو پھانسی دینے سے بچی یتیم ہوجائے گی، بیوی اور بیٹی کے قاتل کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ زینب قتل کیس کے بعد کسی کو پھانسی نہیں ہوئی اور نہ ہی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کیس میں ملزم اور مدعی دونوں جانب سے قتل ہو چکے ہیں اور روایتی طور پر ’حساب برابر‘ ہو چکا ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مقدمے کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کا کیس غیر معمولی حد تک کنفیوژن کا باعث بنا۔













