حکومتی و نجی سرمایہ کاری میں اضافہ، سعودی بینکوں میں ریکارڈ ڈپازٹس

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کے بینکاری شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے جہاں ملکی بینکوں میں جمع شدہ رقوم پہلی بار 800 ارب ڈالر (3 کھرب سعودی ریال) سے تجاوز کر گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

عرب نیوز کے مطابق فروری کے اختتام تک ڈپازٹس میں یہ نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجہ حکومتی ذخائر میں اضافہ جبکہ افراد اور نجی کمپنیوں کی جانب سے بھی مسلسل بڑھتی ہوئی جمع پونجی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق فروری میں سالانہ بنیاد پر ڈپازٹس میں تقریباً 8.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ماہانہ بنیاد پر جنوری کے مقابلے میں 2.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

سعودی سینٹرل بینک کے مطابق حکومتی ڈپازٹس میں تقریباً 127.6 ارب ریال (14.8 فیصد) کا اضافہ ہوا جبکہ افراد اور کمپنیوں کے ڈپازٹس میں بھی 114.3 ارب ریال (6.1 فیصد) کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی ڈپازٹس میں حکومتی حصہ 32.5 فیصد جبکہ نجی شعبے (افراد اور کمپنیوں) کا حصہ 65.6 فیصد ہے جو بینکاری نظام میں نجی شعبے کے اہم کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید برآں بلند شرح سود کے باعث ڈپازٹس کے رجحانات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں صارفین زیادہ منافع دینے والے اکاؤنٹس کی طرف راغب ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ٹائم اور سیونگ ڈپازٹس کا حجم تیزی سے بڑھا ہے۔

مزید پڑھیے: سعودی عرب نے مشکل اوقات میں کیسے پاکستان کی مدد کی؟

فروری کے اختتام تک ٹائم اور سیونگ ڈپازٹس کا حصہ بڑھ کر 39.4 فیصد ہو گیا جو 2022 کے آغاز میں تقریباً 23 فیصد تھا۔ اس تبدیلی کے باعث بینکوں کے درمیان مقابلہ بھی بڑھ گیا ہے اور وہ صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے کم خطرے والے نئے بچت منصوبے متعارف کرا رہے ہیں۔

اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں مالیاتی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

جہاں پہلے ایک کھرب ریال تک پہنچنے میں 19 سال لگے وہیں دوسرے کھرب تک پہنچنے میں 10 سال اور تیسرے کھرب کا ہدف صرف 5 سال میں حاصل کر لیا گیا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں ایک ملین ہیکٹر بنجر زمین کی بحالی، اقوام متحدہ کی تعریف

ماہرین کے مطابق اس تیز رفتار ترقی کی بڑی وجوہات میں تیل کی آمدن میں اضافہ، حکومتی اخراجات میں وسعت، بڑے ترقیاتی منصوبے اور وژن 2030 کے تحت معاشی سرگرمیوں میں اضافہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نجی شعبے کی ترقی، روزگار کے مواقع اور آمدنی میں اضافے نے بھی افراد اور کاروباروں میں بچت کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد‘: محمود اچکزئی کا حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش

پی ایس ایل 11، حیدر آباد کنگز مین کی پشاور زلمی کے خلاف بیٹنگ جاری

پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

غیرملکی وفود کی آمدورفت، اسلام آباد پولیس کی عوام کے لیے اہم ہدایات جاری

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟