سعودی عرب کے بینکاری شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے جہاں ملکی بینکوں میں جمع شدہ رقوم پہلی بار 800 ارب ڈالر (3 کھرب سعودی ریال) سے تجاوز کر گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات
عرب نیوز کے مطابق فروری کے اختتام تک ڈپازٹس میں یہ نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجہ حکومتی ذخائر میں اضافہ جبکہ افراد اور نجی کمپنیوں کی جانب سے بھی مسلسل بڑھتی ہوئی جمع پونجی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق فروری میں سالانہ بنیاد پر ڈپازٹس میں تقریباً 8.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ماہانہ بنیاد پر جنوری کے مقابلے میں 2.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
سعودی سینٹرل بینک کے مطابق حکومتی ڈپازٹس میں تقریباً 127.6 ارب ریال (14.8 فیصد) کا اضافہ ہوا جبکہ افراد اور کمپنیوں کے ڈپازٹس میں بھی 114.3 ارب ریال (6.1 فیصد) کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی ڈپازٹس میں حکومتی حصہ 32.5 فیصد جبکہ نجی شعبے (افراد اور کمپنیوں) کا حصہ 65.6 فیصد ہے جو بینکاری نظام میں نجی شعبے کے اہم کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید برآں بلند شرح سود کے باعث ڈپازٹس کے رجحانات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں صارفین زیادہ منافع دینے والے اکاؤنٹس کی طرف راغب ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ٹائم اور سیونگ ڈپازٹس کا حجم تیزی سے بڑھا ہے۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب نے مشکل اوقات میں کیسے پاکستان کی مدد کی؟
فروری کے اختتام تک ٹائم اور سیونگ ڈپازٹس کا حصہ بڑھ کر 39.4 فیصد ہو گیا جو 2022 کے آغاز میں تقریباً 23 فیصد تھا۔ اس تبدیلی کے باعث بینکوں کے درمیان مقابلہ بھی بڑھ گیا ہے اور وہ صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے کم خطرے والے نئے بچت منصوبے متعارف کرا رہے ہیں۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں مالیاتی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔
جہاں پہلے ایک کھرب ریال تک پہنچنے میں 19 سال لگے وہیں دوسرے کھرب تک پہنچنے میں 10 سال اور تیسرے کھرب کا ہدف صرف 5 سال میں حاصل کر لیا گیا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں ایک ملین ہیکٹر بنجر زمین کی بحالی، اقوام متحدہ کی تعریف
ماہرین کے مطابق اس تیز رفتار ترقی کی بڑی وجوہات میں تیل کی آمدن میں اضافہ، حکومتی اخراجات میں وسعت، بڑے ترقیاتی منصوبے اور وژن 2030 کے تحت معاشی سرگرمیوں میں اضافہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نجی شعبے کی ترقی، روزگار کے مواقع اور آمدنی میں اضافے نے بھی افراد اور کاروباروں میں بچت کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔














