ملکی معاشی حالات کے باعث ٹیکس آمدنی بڑھانے کے لیے آئے دن نت نئے ٹیکسز عائد کیے جا رہے ہیں، اسی سلسلے میں اب فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ڈیجیٹل معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے پیسہ بنانے والوں پر بھی انکم ٹیکس عائد کرنے سے متعلق بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔
ایف بی آر نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ٹیکس وصولی کا نیا طریقہ کار وضع کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر نے انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے آن لائن ریٹرنز جمع کرانے کے نئے قواعد متعارف کرا دیے
ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق سوشل میڈیا سے ہونے والی آمدنی پر ٹیکس انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 99 سی کے تحت لاگو کیا جائے گا، اس نئے قانون کے تحت پاکستان میں دیکھے جانے والے سوشل میڈیا مواد سے حاصل ہونے والی رقم کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ غیر رہائشی افراد یعنی اوورسیز پاکستانی جو پاکستان سے ویورشپ اور سبسکرائبرز کے ذریعے آمدنی حاصل کر رہے ہیں، وہ بھی اس ٹیکس کو ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔
مزید پڑھیں:ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ، ایف بی آر نے لسٹ جاری کر دی
ایک مالی سال میں اپنی اپلوڈ کی گئی ویڈیوز پر 50 ہزار ویوز حاصل کرنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو باقاعدہ کاروبار تصور کیا جائے گا، جبکہ سہ ماہی بنیادوں پر 12 ہزار 500 ویوز رکھنے والے اکاؤنٹس بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا، مجوزہ طریقہ کار کے تحت یوٹیوب پر ہر ایک ہزار ویوز پر 195 روپے آمدن فرض کی جائے گی، جس پر متعلقہ سلیب کے مطابق ٹیکس وصول ہوگا۔
ایف بی آر نے سوشل میڈیا کے متعلقین اور تکنیکی ماہرین سے ایک ہفتے کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کر لیے ہیں، ان تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد ٹیکس وصولی کے حتمی طریقہ کار کا اعلان کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:سولر پینلز اور انٹرنیٹ مہنگے ہونے کا امکان، ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو تجاویز دیدیں
پاکستان میں بیروزگاری کے باعث لاکھوں نوجوان یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک کو بطور ذریعہ معاش استعمال کر رہے ہیں، اگرچہ ٹیکس کے نفاذ سے ان کی بچت پر اثر پڑے گا، تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے یہ شعبہ باقاعدہ صنعت کا درجہ اختیار کر لے گا۔
ٹیکس گزار بننے سے نوجوانوں کو بینکنگ سہولیات اور بیرون ملک سے آنے والی رقم کو قانونی تحفظ حاصل کرنے میں آسانی ہوگی، جبکہ قومی خزانے میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔











