کراچی میں ہونے والی حالیہ طوفانی بارش نے ایک بار پھر شہر کے انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ موسلا دھار بارش کے بعد اہم علاقوں میں پانی اس طرح جمع ہوا جیسے نکاسی آب کا کوئی نظام سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ انڈر پاس جھیلوں میں تبدیل ہو گئے، سڑکیں جگہ جگہ سے بیٹھ گئیں، اور شہری گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے بے بسی کی تصویر بنے رہے۔
کئی اہم مقامات پر پانی جمع ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، اور کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔ متعدد عمارتیں پانی سے بھر گئیں جس سے شہریوں کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں موسلا دھار بارش: بچی سمیت 6 افراد جاں بحق، سیلابی صورتحال
شہری اس صورتحال سے پریشان نظر آئے اور پیپلزپارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے خوب تنقید کی۔ زاہد منصوری کہتے ہیں کہ کراچی ڈوب گیا، درمیانے درجے کی بارش نے بے اختیار بلدیاتی نظام کا کچا چٹھا کھول دیا، کھنڈر شاہراہیں تالاب بن چکی، جعلی بلدیاتی مینڈیٹ کے ذریعے شہر پر مسلط کیے گئے پہلے مئیر عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے۔
کراچی ڈوب گیا
درمیانے درجے کی بارش نے بے اختیار بلدیاتی نظام کا کچا چٹھا کھول دیا، کھنڈر شاہراہیں تالاب بن چکی،
جعلی بلدیاتی مینڈیٹ کے ذریعے شہر پر مسلط کیئے گئےپپلے مئیر عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے۔@ARYNEWSOFFICIAL @BBCUrdu @Dawn_News @DunyaNews @geonews_urdu pic.twitter.com/9adtD8L9tY— زاھد منصوری (@ZahidMansori) April 2, 2026
ایک صارف نے لکھا کہ دوسرے شہروں میں بارش کے بعد شہری ریمبو کے دلکش مناظر کی عکس بندی کرتے ہیں مگر کراچی والے زمین پر گندی اور اوپر تاروں کے جال کیمروں میں قید کرتے ہیں۔
دوسرے شہروں میں بارش کے بعد شہری ریمبو کے دلکشن مناظر کی عکس بندی کرتے ہیں مگر کراچی والے زمین پر گندی اور اوپر تاروں کے جال کیمروں میں قید کرتے ہیں#Karachirainbow 🌈 pic.twitter.com/GBcKe8UFCC
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) April 2, 2026
شاہد حسین نے ایک اور ویڈیو شیئر کی جس میں بڑے بڑے گڑھے کھدے ہوئے نظر آ رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں بارش نے جگہ جگہ موت کے کنوئیں کھول دیے۔
کراچی میں بارش نے جگہ جگہ موت کے کنوئیں کھول دیے۔
طبہ سینٹر کے پاس کا منظر pic.twitter.com/Ub0iMdr6YF— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) April 2, 2026
جنید رضا نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں بسیں سڑکوں میں دھنسی ہوئی ہیں اور سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی روڈ ہے وہی مقام ہے جس کا 17 مارچ کو میئر کراچی ٹوئٹ کرکے کریڈٹ لے رہے تھے، آج پندرویں روز یہ سڑک دھنس گئی ۔ اب میئر صاحب اور ان کی ٹیم کہہ رہی ہے کہ یہ کنٹونمنٹ ہے تو آپ روڈ ڈلواکر ویڈیوز ڈال کر کریڈٹ کیوں لیتے رہے؟
یہ وہی روڈ ہے وہی مقام ہے جس کا 17 مارچ کو میئر کراچی ٹوئٹ کرکے کریڈٹ لے رہے تھے ، آج پندرویں روز یہ سڑک دھنس گئی ۔ اب میئر صاحب اور ان کی ٹیم کہہ رہی ہے کہ یہ کنٹونمنٹ ہے تو آپ روڈ ڈلواکر ویڈیوز ڈال کر کریڈٹ کیوں لیتے رہے ؟
بقول شاعر " جان جاں موت نہیں شرم تو آتی ہوگی " https://t.co/fjWi50Gn3L pic.twitter.com/DXIXuTSgsR— Junaid Raza Zaidi (@junaidraza01) April 2, 2026
مرتضیٰ وہاب نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ نرسری کے ڈرین کے پاس کھڑا ہوں۔ پانی اچھی طرح نکل رہا ہے جس پر ایک سوشل میڈیا صارف نے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی جگہ پانی نکاسی میں کیوں جا رہا ہے؟ پہلے شاہراہِ فیصل کے نیچے بڑے ڈرین موجود تھے، وہ بند کیوں کر دیے گئے؟ کیا عسکری کالونیوں کو شہر کے بنیادی ڈھانچے سے زیادہ اہمیت دی گئی؟
Excuse me sir, why a single point is taking water into drain? Previously there were huge drains passing by n under shahrah e faisal, why they got closed? Are the askarj colonies more important than city infrastructure? https://t.co/YrhrJhcH08
— n 🇵🇸 (@doctorbatsunen) April 2, 2026
وجاہت علی نے لکھا کہ حب کینال کے 1200 کروڑ کے بعد شاہراہ فیصل نرسری نیوٹیفیکیشن کے 10 کروڑ بھی بہہ گئے۔
حب کینال کے بارہ سو کروڑ کے بعد شاہراہ فیصل نرسری نیوٹیفیکیشن کے 10 کروڑ بھی بہ گئے pic.twitter.com/GcrREbPjEQ
— Wajahat Ali Abidi (@AbidiFactors) April 2, 2026
ایک صارف نے بارش کے بعد کراچی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دعا کریں کراچی میں بارش نہ ہو۔
بس دعا کریں کراچی میں بارش نہ ہو۔ pic.twitter.com/vcWOZnKHCi
— Naimat Khan (@NKMalazai) April 2, 2026
ایک صارف کا کہنا تھا کہ کراچی میں بارش رحمت کے بجائے زحمت بن گئی ہے۔ یہ سندھ حکومت کے لیے سوالیہ نشان ہے، شہری ٹریفک متاثر ہونے اور کھڑے پانی کے باعث دوہری اذیت کا شکار ہیں۔
کراچی میں بارش رحمت کی بجائے زحمت بن گئی
سندھ حکومت کے لیے سوالیہ نشانشہری ٹریفک متاثر ہونے اور کھڑے پانی کے باعث دوہری اذیت کا شکار
PPP Exposed Again #پیپلزپارٹی_نےکراچی_ڈبو_دیا pic.twitter.com/vSVpwsPaKn— sanah khamisani GFX artist 🇵🇰🇵🇸 (@sanahkhamisani) April 2, 2026
شہریوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے بڑے بڑے دعوے صرف کاغذوں تک محدود ہیں، جبکہ حقیقت میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، سیوریج کا نظام ناکارہ، اور شہری سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بارش نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ شہر کا انفراسٹرکچر کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں۔
جبکہ کئی صارفین یہ کہتے نظر آئےکہ کراچی کو ملکوں سے موازنہ کرنے کے خواب دکھانے والوں نے اسے کھنڈر بنا دیا ہے۔ اور یہ صورتحال صرف بدانتظامی نہیں بلکہ شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ کراچی کے عوام ٹیکس دیتے ہیں، معیشت کو چلاتے ہیں، مگر بدلے میں انہیں ملتا کیا ہے؟













