’کراچی نہیں موت کے کنویں‘، شہر قائد میں چند منٹوں کی بارش نے ایک بار پھر پیپلزپارٹی کی کارکردگی عیاں کردی

جمعہ 3 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں ہونے والی حالیہ طوفانی بارش نے ایک بار پھر شہر کے انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ موسلا دھار بارش کے بعد اہم علاقوں میں پانی اس طرح جمع ہوا جیسے نکاسی آب کا کوئی نظام سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ انڈر پاس جھیلوں میں تبدیل ہو گئے، سڑکیں جگہ جگہ سے بیٹھ گئیں، اور شہری گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے بے بسی کی تصویر بنے رہے۔

کئی اہم مقامات پر پانی جمع ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، اور کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔ متعدد عمارتیں پانی سے بھر گئیں جس سے شہریوں کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں موسلا دھار بارش: بچی سمیت 6 افراد جاں بحق، سیلابی صورتحال

شہری اس صورتحال سے پریشان نظر آئے اور پیپلزپارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے خوب تنقید کی۔ زاہد منصوری کہتے ہیں کہ کراچی ڈوب گیا، درمیانے درجے کی بارش نے بے اختیار بلدیاتی نظام کا کچا چٹھا کھول دیا، کھنڈر شاہراہیں تالاب بن چکی، جعلی بلدیاتی مینڈیٹ کے ذریعے شہر پر مسلط کیے گئے پہلے مئیر عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے۔

ایک صارف نے لکھا کہ  دوسرے شہروں میں بارش کے بعد شہری ریمبو کے دلکش مناظر کی عکس بندی کرتے ہیں مگر کراچی والے زمین پر گندی اور اوپر تاروں کے جال کیمروں میں قید کرتے ہیں۔

شاہد حسین نے ایک اور ویڈیو شیئر کی جس میں بڑے بڑے گڑھے کھدے ہوئے نظر آ رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں بارش نے جگہ جگہ موت کے کنوئیں کھول دیے۔

جنید رضا نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں بسیں سڑکوں میں دھنسی ہوئی ہیں اور سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی روڈ ہے وہی مقام ہے جس کا 17 مارچ کو میئر کراچی ٹوئٹ کرکے کریڈٹ لے رہے تھے، آج پندرویں روز یہ سڑک دھنس گئی ۔ اب میئر صاحب اور ان کی ٹیم کہہ رہی ہے کہ یہ کنٹونمنٹ ہے تو آپ روڈ ڈلواکر ویڈیوز ڈال کر کریڈٹ کیوں لیتے رہے؟

مرتضیٰ وہاب نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ نرسری کے ڈرین کے پاس کھڑا ہوں۔ پانی اچھی طرح نکل رہا ہے جس پر ایک سوشل میڈیا صارف نے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی جگہ پانی نکاسی میں کیوں جا رہا ہے؟ پہلے شاہراہِ فیصل کے نیچے بڑے ڈرین موجود تھے، وہ بند کیوں کر دیے گئے؟ کیا عسکری کالونیوں کو شہر کے بنیادی ڈھانچے سے زیادہ اہمیت دی گئی؟

وجاہت علی نے لکھا کہ حب کینال کے 1200 کروڑ کے بعد شاہراہ فیصل نرسری نیوٹیفیکیشن کے 10 کروڑ بھی بہہ گئے۔

ایک صارف نے بارش کے بعد کراچی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دعا کریں کراچی میں بارش نہ ہو۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ کراچی میں بارش رحمت کے بجائے زحمت بن گئی  ہے۔ یہ سندھ حکومت کے لیے سوالیہ نشان ہے،  شہری ٹریفک متاثر ہونے اور کھڑے پانی کے باعث دوہری اذیت کا شکار ہیں۔ 

شہریوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے بڑے بڑے دعوے صرف کاغذوں تک محدود ہیں، جبکہ حقیقت میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، سیوریج کا نظام ناکارہ، اور شہری سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بارش نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ شہر کا انفراسٹرکچر کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں۔

جبکہ کئی صارفین یہ کہتے نظر آئےکہ کراچی کو ملکوں سے موازنہ کرنے کے خواب دکھانے والوں نے اسے کھنڈر بنا دیا ہے۔ اور یہ صورتحال صرف بدانتظامی نہیں بلکہ شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ کراچی کے عوام ٹیکس دیتے ہیں، معیشت کو چلاتے ہیں، مگر بدلے میں انہیں ملتا کیا ہے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

غیرملکی وفود کی آمدورفت، اسلام آباد پولیس کی عوام کے لیے اہم ہدایات جاری

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟