شدید بارش کے باعث کراچی میں ایک بچی سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے جبکہ شہریوں کو سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بارش کا نیا سلسلہ، مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش، انتظامیہ الرٹ
پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق حادثات میں کرنٹ لگنے اور دیوار گرنے کے واقعات شامل ہیں جو جمعرات کو شہر کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی موسلا دھار بارش کے دوران پیش آئے۔
پی آئی بی کالونی کے قریب پوسٹ آفس اور کوئٹہ ہوٹل کے علاقے میں 30 سالہ عبد الولی بجلی کے کھمبے سے ٹکرانے کے باعث جان کی بازی ہارگئے۔ ان کی لاش چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کی گئی۔
On the directions of the Commissioner Karachi, district administrations are on ground across all districts, actively responding to the rain emergency and carrying out dewatering operations on inundated roads. pic.twitter.com/OHOFUzqAYI
— Commissioner Karachi (@CommissionerKhi) April 2, 2026
ایس ایچ او رانا اجمل کا کہنا ہے کہ زیادہ تر امکان یہی ہے کہ موت کرنٹ لگنے سے ہوئی۔
اسی طرح سائٹ سپرہائی وے کے احسان آباد سیکٹر 3 میں 35 سالہ شہاب الدین دکان کی وائرنگ ٹھیک کرتے ہوئے برقی جھٹکے سے جاں بحق ہوئے۔ ان کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی۔
مزید پڑھیے: کراچی سمیت سندھ میں بارشوں کی پیشگوئی، ایئرپورٹس پر ہائی الرٹ
سرجانی ٹاؤن کے حسن بروہی گوٹھ میں 23 سالہ سریاج بھی برقی جھٹکے سے جان سے گئے جبکہ 12 سالہ دعا بتول اپنے گھر میں کھلی تاروں سے ٹکرانے کے باعث جان سے چلی گئی۔
پرانا گولیمار میں بسم اللہ ہوٹل اور انور بیکری کے قریب 2 منزلہ عمارت کی دیوار رکشہ پر گرنے سے ڈرائیور 50 سالہ ارشد علی موقعے پر جاں بحق ہوگئے۔
بچے زخمی
اورنگی ٹاؤن میں گھر کی دیوار گرنے سے 3 بچے زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
زخمیوں کی شناخت رحمان (7)، قاسم (13) اور امیر معاویہ (14) کے طور پر ہوئی ہے۔
سب سے زیادہ بارش پاپوش نگر میں ریکارڈ
محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ بارش پاپوش نگر میں 69.6 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ کیماڑی میں 56 ملی میٹر اور بحریہ ٹاؤن میں 43.5 ملی میٹر بارش ہوئی۔
KMC on high alert amid rains.
Over 50 choking points cleared in the past two weeks on Mayor @murtazawahab1’s directives.
Teams deployed at 8 drains and 12 key points, with mobile units active across the city.
Staff stationed at major road links; relief camps set up at 10+… pic.twitter.com/MHR85GE0F6
— Karachi Metropolitan Corporation (@KmcPakistan) April 2, 2026
کمشنر کراچی سید حسن نقوی کا کہنا ہے کہ تمام اضلاع میں ایمرجنسی کیمپ قائم کیے گئے اور انتظامیہ چوکس ہے تاکہ شہریوں کی فوری مدد کی جا سکے۔
بارش کے باعث ٹریفک بھی شدید متاثر ہوئی، شاہراہ فیصل، نیشنل اسٹیڈیم، رشید منہاس روڈ، کورنگی روڈ اور دیگر اہم راستوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔
کراچی ٹریفک پولیس نے شہریوں کو برقی تاروں سے دور رہنے اور رفتار کم رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
کراچی میں بارش کے بعد
ایئر پورٹ کٹ اور جناح ایونیو روڈ کے
جنگ سے تباہ حال کسی علاقے کا منظر پیش کرتے ہوئے pic.twitter.com/DFrFrLtnZ3— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) April 2, 2026
کراچی کے میئر مرزا مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ کے عملے کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی۔ تیز بارش کے دوران شکایات کے فوری ازالے کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
پاکستان موسمیاتی ادارے کے مطابق ایک نیا ویسٹرن سسٹم بلوچستان کے راستے کراچی میں داخل ہو رہا ہے اور شہر میں جمعے کے روز بھی گرج چمک کے ساتھ بادل برسنے کا امکان برقرار ہے۔ سندھ میں موجودہ سسٹم 4 اپریل تک رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ضلعی اور بلدیاتی حکام نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے، کمزور دیواروں اور زیر تعمیر عمارتوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
کراچی میں بارش کے بعد گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں pic.twitter.com/BkxhUlU6C2
— Adil Nizami (@AdilNizami10) April 2, 2026
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں حساس مقامات پر موجود ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
مزید پڑھیں: کراچی: فینسی نمبر پلیٹس کیخلاف کریک ڈاؤن، کم عمر ڈرائیور ڈی آئی جی پولیس کی موجودگی میں فرار
سندھ کے سینیئر وزیر شارجیل انعام میمن نے کہا کہ بارش کے دوران شہریوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔














