عالمی جنگی صورتحال کے بعد دنیا بھر میں ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم مختلف ممالک کے تقابلی جائزے میں پاکستان میں سب سے کم اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، حالانکہ ملک کا انحصار خلیجی تیل پر زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایس ایم ایس کے ذریعے موٹر سائیکل پیٹرول سبسڈی کے لیے رجسٹریشن کیسے کی جاسکتی ہے؟
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فلپائن میں ڈیزل کی قیمتوں میں 82 فیصد جبکہ نائجیریا میں 78 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح ویتنام میں 59 فیصد، ملائیشیا میں 58 فیصد اور آسٹریلیا میں 52 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ دیگر ممالک میں سنگاپور میں 44 فیصد، امریکا میں 41 فیصد، سری لنکا میں 38 فیصد، کینیڈا میں 37 فیصد، یوکرین میں 34 فیصد، جرمنی میں 31 فیصد، فرانس میں 28 فیصد اور چین میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے برعکس پاکستان میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ صرف 22 فیصد رہا، جو اس فہرست میں سب سے کم ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت نے عالمی دباؤ کے باوجود مقامی سطح پر قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی ہفتوں تک حکومت نے اضافی مالی بوجھ خود برداشت کیا تاکہ عوام کو فوری طور پر مہنگائی کے شدید اثرات سے بچایا جا سکے۔ اس دوران سبسڈی اور دیگر مالی اقدامات کے ذریعے قیمتوں میں اضافے کو محدود رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کی قیمت میں اضافہ: حکومت کس کو کتنی سبسڈی دے رہی ہے؟
ماہرین معاشیات کے مطابق پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو تیل کی درآمدات کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے، اس نوعیت کا کنٹرول ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت نے وقتی طور پر عوام کو ریلیف دیا ہے، تاہم طویل المدتی بنیادوں پر توانائی کے متبادل ذرائع اور معاشی استحکام پر توجہ دینا ضروری ہوگا۔













