امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز نے یورپ کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جس کے لیے وہ نہ تو تیار تھا اور نہ ہی اس کا خواہاں تھا۔ تجزیہ کار کرسچین ایڈورڈز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کا آغاز کرتے وقت یورپی اتحادیوں سے مشاورت نہیں کی، مگر اب وہی امریکہ یورپ سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اس کے نتائج کا بوجھ اٹھائے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب
سی این این کے مطابق رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش نے یورپ کو شدید توانائی بحران میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصہ تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یورپی ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ خود اس اہم گزرگاہ کا کنٹرول سنبھالیں اور اپنے مفادات کا تحفظ کریں، جبکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جنگ کے بعد یہ راستہ خود ہی کھل جائے گا۔ اس تضاد کو ماہرین امریکی پالیسی میں ایک نئی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی خارجہ امور کے ماہر رچرڈ ہاس کے مطابق ٹرمپ دراصل ایک نئے اصول پر عمل کر رہے ہیں جسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ’ہم نے مسئلہ پیدا کیا، مگر اب اس کی ذمہ داری تمہاری ہے‘۔ اس پالیسی نے یورپ کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے، کیونکہ ایک طرف اسے توانائی بحران کا سامنا ہے اور دوسری جانب اسے سیکیورٹی معاملات میں بھی زیادہ کردار ادا کرنے کا دباؤ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ کو پھیلانا ایران کے لیے خطرناک ہوگا
ادھر سابق امریکی سفیر برائے نیٹو ایوو ڈالڈر نے کہا کہ ٹرمپ نے نہ کانگریس سے مشورہ کیا، نہ عوام سے اور نہ ہی اتحادیوں سے، جس کے باعث اب امریکا خود بھی ایک مشکل دوراہے پر کھڑا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نیٹو اتحاد کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے، کیونکہ یورپی ممالک اب امریکہ پر مکمل انحصار کے حوالے سے شکوک کا شکار ہو رہے ہیں۔

تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر یہ بحران طویل ہوا تو یورپ کو نہ صرف مہنگی توانائی خریدنا پڑے گی بلکہ روس سے تعلقات بحال کرنے کی آوازیں بھی زور پکڑ سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک دفاعی اور توانائی کے شعبوں میں خود انحصاری بڑھانے کی طرف بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جو عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔













