چینی ٹیکنالوجی کمپنی ڈیپ سیک نے اپنے نئے مصنوعی ذہانت ماڈل وی 4 کی تیاری مکمل کرلی ہے، جو آئندہ چند ہفتوں میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔ اس ماڈل کو چینی کمپنی ہواوے ٹیکنالوجیز کے تیار کردہ چِپس پر چلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جسے عالمی اے آئی مقابلے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وی 4 ماڈل کی تیاری کے دوران کیمبرِیکون ٹیکنالوجیز کے ساتھ کئی ماہ تک تعاون کیا گیا، جبکہ انجینئرز نے سافٹ ویئر کے بعض حصوں کو دوبارہ لکھا تاکہ اسے مقامی چِپس کے ساتھ ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: چینی چیٹ بوٹ ڈیپ سیک کس مسئلے سے دوچار ہے؟
دوسری جانب علی بابا، بائٹ ڈانس اور ٹین سینٹ سمیت بڑی چینی ٹیک کمپنیوں نے ہواوے کے نئے چِپس کی بڑی تعداد میں خریداری کے آرڈرز دے دیے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ آرڈرز لاکھوں یونٹس پر مشتمل ہیں، جو وی 4 ماڈل کی لانچ سے قبل ہی مضبوط طلب کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں مقامی چِپ ٹیکنالوجی پر اعتماد بڑھ رہا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی مقابلہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیپ سیک نے روایتی طریقہ کار کے برعکس امریکی چِپ ساز کمپنیوں کو وی 4 ماڈل تک رسائی نہیں دی اور مقامی شراکت داروں پر انحصار کیا، جسے چینی اے آئی ایکو سسٹم کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چینی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک کا نیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈل متعارف
کمپنی اس وقت وی 4 کے مزید دو ورژنز پر بھی کام کر رہی ہے، جو مختلف صلاحیتوں کے حامل ہوں گے اور اسی طرز کے ہارڈویئر پر چلیں گے۔
واضح رہے کہ ڈیپ سیک کے سابقہ ماڈلز نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرز میں اتار چڑھاؤ پیدا کیا تھا اور مغربی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔













