بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ ٹوکنائزڈ فنانس مستقبل میں مالیاتی بحرانوں کی شدت میں اضافہ کر سکتا ہے، جس کے باعث ریگولیٹرز کے لیے بروقت اقدامات کرنا مشکل ہو جائے گا۔
آئی ایم ایف کے عہدیدار ٹوبیاس ایڈرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے اسٹاک، بانڈز اور نقد رقم جیسے اثاثوں کو ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کرنا مالیاتی نظام میں ایک بڑی ساختی تبدیلی ہے، نہ کہ صرف کارکردگی میں معمولی بہتری۔
یہ بھی پڑھیے: آئی ایم ایف کا پیٹرولیم لیوی میں نرمی سے انکار، حکومت کا عوامی ریلیف کے لیے دوبارہ مذاکرات کا فیصلہ
رپورٹ کے مطابق بڑی مالیاتی کمپنیاں جیسے بلیک راک اور جے پی مورگن چیس اس ٹیکنالوجی کے عملی تجربات کر رہی ہیں تاکہ روایتی اثاثوں کی خرید و فروخت کو مزید تیز اور آسان بنایا جا سکے۔
اسی طرح نیسڈیک نے ٹوکنائزڈ شیئرز کی تجارت کے لیے امریکی ریگولیٹر سے منظوری طلب کی ہے، جبکہ نیویارک اسٹاک ایکسچینج بھی بلاک چین پر مبنی پلیٹ فارم تیار کر رہا ہے جہاں 24 گھنٹے تجارت ممکن ہوگی۔
آئی ایم ایف کے مطابق اگرچہ اس ٹیکنالوجی سے لین دین کی رفتار میں اضافہ ہوگا، لیکن یہی تیزی ایک بڑا خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘بحرانی حالات زیادہ تیزی سے پیدا ہوں گے، جس سے ریگولیٹرز کے پاس مداخلت کے لیے کم وقت ہوگا’۔ موجودہ نظام میں لین دین کی تکمیل میں تاخیر مرکزی بینکوں کو بحران کے دوران اقدامات کا موقع فراہم کرتی ہے، جو فوری نظام میں ممکن نہیں رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ کیوں رہے؟
مزید کہا گیا ہے کہ نجی اسٹیبل کوائنز، جو ٹوکنائزڈ مارکیٹس میں استعمال ہو رہے ہیں، عام حالات میں مستحکم مگر بحران کے دوران غیر محفوظ ثابت ہو سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس ڈیجیٹل تبدیلی کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی پالیسیاں مرتب کریں، کیونکہ ٹوکنائزڈ مالیاتی نظام کی تشکیل کا موقع زیادہ دیر تک دستیاب نہیں رہے گا۔













