برطانیہ میں کی گئی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نوجوان بڑی تعداد میں صحت کے مسائل کے باعث ملازمتیں چھوڑ رہے ہیں، جبکہ غیر یقینی ملازمتیں اور کم اجرت اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مہمان نوازی، ریٹیل اور کیئر سیکٹر میں کام کرنے والے نوجوان ملازمین غیرمستحکم ملازمتوں کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ نوکریاں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ میں تعلیم کے بعد ملازمت کی ضمانت دینے والے 10 تعلیمی شعبے
یہ تحقیق ٹریڈز یونین کانگریس کی جانب سے کروائی گئی، جسے ادارہ ٹائم وائز نے مکمل کیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ کم اجرت والے شعبے صحت کے خراب نتائج سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں، خاص طور پر وہ صنعتیں جہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد کام کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مہمان نوازی کے شعبے میں کام کرنے والے 40 فیصد سے زائد افراد غیر یقینی ملازمتوں جیسے زیرو آورز کنٹریکٹس یا عارضی ملازمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حالات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کو بھی متاثر کرتے ہیں، جس سے ملازمین کے نوکری چھوڑنے کی شرح بڑھ جاتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ برطانیہ میں 16 سے 24 سال کے تقریباً 9 لاکھ 57 ہزار نوجوان نہ تعلیم، نہ روزگار اور نہ ہی کسی تربیت میں شامل ہیں۔ ان میں سے تقریباً نصف افراد بیماری یا معذوری کا شکار ہیں، جو مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اے آئی کے بڑھتے اثرات، خواتین کی ملازمتیں اگلے 10 سال میں ختم ہو جائیں گی؟
ماہرین کے مطابق صرف نئی ملازمتیں پیدا کرنا کافی نہیں بلکہ ملازمتوں کے حالات کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو درپیش غیر یقینی صورتحال کم ہو اور وہ طویل عرصے تک روزگار سے وابستہ رہ سکیں۔
ادھر حکومت کی جانب سے کاروباری اداروں کو نوجوانوں کو ملازمت دینے کے لیے مالی مراعات دی جا رہی ہیں، جبکہ ماہرین اور مزدور تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ کارکنوں کو بہتر تحفظ، مناسب تنخواہ، مستقل اوقات کار اور تنخواہ کے ساتھ بیماری کی چھٹی جیسے حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کے روزگار کو مستحکم بنایا جا سکے۔














