پاکستان میں بچوں اور نوعمروں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں حیران کن اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بڑی وجہ ابتدائی زندگی میں ماں کا دودھ نہ پلانا قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مرض اب نوجوانوں میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جو پہلے زیادہ تر بالغ افراد تک محدود تھا۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کھانے کے بجائے پینا کیوں زیادہ خطرناک؟ ذیابیطس سے جڑا اہم راز سامنے آ گیا
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں نوعمروں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیسز کا سب سے اہم سبب ابتدائی زندگی میں دودھ پلانے کی کمی ہے۔ سینیئر پیڈیٹرک اینڈوکرائنولوجسٹ اور ڈائیبیٹولوجسٹ کے مطابق اب وہ نوجوان مریض دیکھ رہے ہیں جو پہلے صرف بالغوں میں پایا جاتا تھا، اور یہ رجحان انتہائی خطرناک لیکن بڑی حد تک قابلِ روک تھام ہے۔
پروفیسر جمیل رضا ایگزیکٹو ڈائریکٹر سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چلڈ ہیلتھ اینڈ نیونٹولوجی، نے کہا کہ ماں کے دودھ کی کمی بچوں کو میٹابولک بیماریوں سے محفوظ رکھنے والے عوامل سے محروم کر دیتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ وہ بچے جنہیں دودھ نہیں پلایا گیا، انہیں بعد میں ٹائپ 2 ذیابیطس لاحق ہونے کا خطرہ 33 سے 40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماں کا دودھ صرف غذا نہیں بلکہ ایک حیاتیاتی نظام ہے جو بچوں کو ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتا ہے، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے اور جسم کے میٹابولزم کو ایسے طریقے سے منظم کرتا ہے کہ موٹاپے اور ذیابیطس کا خطرہ کم ہو۔ اس کے برعکس، فارمولہ دودھ بچوں میں وزن بڑھنے اور موٹاپے کے خطرے سے منسلک ہے، جو انسولین کی مزاحمت اور ذیابیطس کی بنیادی وجہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کھانے کے بجائے پینا کیوں زیادہ خطرناک؟ ذیابیطس سے جڑا اہم راز سامنے آ گیا
ماہرین نے کہا کہ دودھ پلانے سے محروم بچوں میں الرجی، دمہ، اسہال اور دیگر انفیکشن کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں، جو ان کی مجموعی صحت اور نشوونما پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پروفیسر رضا نے زور دیا کہ ابتدائی 6 مہینوں میں صرف ماں کا دودھ پلانا ضروری ہے اور اس دوران پانی یا دیگر غذاؤں کی ضرورت نہیں۔

عالمی ماہر صحت ذوالفقار بھٹہ نے کہا کہ فارمولہ دودھ کی ضرورت بہت محدود ہے اور صرف وہ بچے جو کسی سنگین طبی یا سماجی وجوہات کی بنا پر ماں کا دودھ نہیں لے سکتے، انہیں اس کی ضرورت ہے۔ معروف ڈائیبیٹولوجسٹ عبدالباسط نے بھی کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس کی بنیادیں ابتدائی بچپن میں رکھی جا رہی ہیں، اور ماں کے دودھ سے محرومی اس وباء میں اضافہ کر رہی ہے۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا کہ اگر بچوں میں دودھ پلانے کے رجحان اور طرزِ زندگی میں تبدیلی نہ آئی تو پاکستان میں ایک ایسی نسل پیدا ہو سکتی ہے جو عمر کے ابتدائی مرحلے میں ہی دائمی امراض میں مبتلا ہو جائے گی۔ پروفیسر رضا نے کہا کہ یہ صرف ذیابیطس کی بات نہیں، بلکہ قوم کے مستقبل کی صحت کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم دودھ پلانے کو نظر انداز کرتے رہے تو ہم نوجوان مریض پیدا کرتے رہیں گے جن کی بیماری قابلِ روک تھام ہوتی۔














