قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے اجلاس کو آگاہ کیا گیا ہے کہ حالیہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں اوسطاً 25 سے 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ بعض روٹس پر یہ اضافہ 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر نئے کرایہ نامے جاری کریں اور ان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: پیٹرول مہنگا، گڈز ٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں 60 فیصد اضافے کا اعلان
انہوں نے کہا کہ حکومتی سبسڈی کا فائدہ عوام تک پہنچنا چاہیے اور ٹرانسپورٹرز کی جانب سے من مانے اضافوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے صوبائی چیف سیکرٹریز کو ہدایت دی کہ ٹرانسپورٹ سیکرٹریز کو کرایہ کنٹرول کی واضح ذمہ داری دی جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھ گئے ہیں، جس کا اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ وزیر نے خبردار کیا کہ اس صورتحال سے مہنگائی کا دوسرا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جیٹ فیول میں اضافے کیساتھ ہی پی آئی اے کے کرایوں میں اضافہ
احسن اقبال نے ہدایت دی کہ مارکیٹ کمیٹیاں اور ضلعی انتظامیہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں اور منافع کی شرح کی نگرانی کریں تاکہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری روکی جا سکے۔ انہوں نے سبزیوں، دالوں، چاول اور گندم سمیت بنیادی اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں یوریا کھاد کی قیمتوں کے فرق پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور اسمگلنگ روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت جاری کی گئی۔













