وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) امیگریشن کراچی نے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے ایک متاثرہ خاتون کو ریسکیو کر لیا جبکہ متعدد مسافروں کو مشکوک دستاویزات پر آف لوڈ کر دیا گیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق متحدہ عرب امارات سے آنے والی ایک خاتون کو انسانی اسمگلنگ اور جبری جسم فروشی کا نشانہ بنائے جانے پر ریسکیو کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں ملزمان محسن، انعم اور کاشف کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈھاکہ میں انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی، 4 ملزمان گرفتار
دوسری جانب ترکیہ جانے والے 3 مسافروں عدیل احمد، سید فیصل شاہ بخاری اور شہباز احمد کو مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا۔ حکام کے مطابق ایجنٹس زاہد اور مجیب کی جانب سے فراڈ کے ذریعے ویزے فراہم کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایف آئی اے نے ایک اور کارروائی میں ایبٹ آباد کے رہائشی امان اللہ خان کو جعلی ترک ویزہ رکھنے پر آف لوڈ کر دیا، جس نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے ایجنٹ رضوان کے ذریعے جعلی ویزہ حاصل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: مسافر بس کے ذریعے اسلحہ اسمگلنگ میں ملوث گینگ کراچی میں گرفتار
اسی طرح گجرات کے رہائشی محمد عبداللہ کو مراکش کے راستے اٹلی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے آف لوڈ کیا گیا۔ تحقیقات میں ایجنٹ مظمل فاروق کے غیر قانونی نیٹ ورک کا بھی پتا چلا ہے۔
ترجمان کے مطابق تمام افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔













