بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان نے امریکا کے ساتھ کسی بھی خفیہ معاہدے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تمام معاہدے شفاف ہیں اور عوام کے سامنے لائے جا چکے ہیں۔
اتوار کو سیکرٹریٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ‘امریکا کے ساتھ کوئی خفیہ معاہدہ موجود نہیں، جو بھی معاہدے ہیں وہ پہلے ہی منظر عام پر آ چکے ہیں۔’
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش بارڈر گارڈ کی کارروائی، بھارت سے اسمگل شدہ کروڑوں مالیت کا سامان برآمد
یہ بیان اس ملاقات کے بعد سامنے آیا جس میں امریکا کے سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے وزیراعظم طارق رحمان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر بھی موجود تھے۔
وزیر خارجہ نے توانائی سے متعلق قیاس آرائیوں پر بھی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ بنگلہ دیش کو تیل درآمد کرنے کے لیے امریکا کی اجازت درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی تیل سے متعلق پابندیاں عالمی سطح کی ہیں اور ان کا تعلق کسی دو طرفہ معاہدے سے نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ توانائی درآمدات کے حوالے سے بنگلہ دیش کا امریکا کے ساتھ کوئی لازمی یا پابند معاہدہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کی اہم کاروباری رہنماؤں سے ملاقات، معاشی صورتحال اور چیلنجز پر غور
ڈاکٹر خلیل الرحمان کے مطابق ملاقات میں توانائی، تجارت اور ترقی کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی، جبکہ امریکا نے بنگلہ دیش کی توانائی سلامتی کے فروغ میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک سے ایندھن درآمد کرنے کے آپشنز پر غور کر رہی ہے اور کم لاگت والے ذرائع کو ترجیح دی جائے گی، جن میں بھارت، مشرق وسطیٰ اور امریکا شامل ہیں۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے ممکنہ غیر ملکی دوروں پر ابتدائی مشاورت جاری ہے تاہم کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔













