لاہور قلندرز کے منیجر اور شریک مالک ثمین رانا نے کہا ہے کہ بال ٹیمپرنگ معاملے میں عدالت سے رجوع کرنا سینیئر بیٹر فخر زمان کا ذاتی فیصلہ ہے، تاہم فرنچائز اپنے موقف پر قائم رہنے والے ہر کھلاڑی کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بال ٹیمپرنگ کا ڈرامہ براڈکاسٹرز نے کیا، سابق کپتان راشد لطیف کے اہم دعوے
نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ٹیم کے پریکٹس سیشن کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمین رانا نے کہا کہ اپیل مسترد ہونے کے بعد عدالت جانا فخر زمان کا انفرادی فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر کوئی کھلاڑی اپنے مؤقف پر ڈٹا رہے تو لاہور قلندرز اس کی حمایت جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ اب ایک مضبوط برانڈ بن چکی ہے اور اسے اس مقام تک پہنچانے میں سب نے اہم کردار ادا کیا۔ رواں سیزن میں 2 نئی ٹیموں کے اضافے کے بعد لیگ کا 8 ٹیموں تک پھیلنا خوش آئند ہے جس سے مقابلے کا معیار مزید بہتر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے بھائی فواد رانا سے تنازع کا فیصلہ مصالحتی عدالت نے کیا تھا جس کے خلاف اپیل دائر کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فخر زمان نے بال ٹمپیرنگ الزام پر 2 میچ کی معطلی کے خلاف اپیل دائر کر دی
ثمین رانا نے شائقین کی کم تعداد پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض فیصلے حالات کے پیش نظر کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کراچی میں پی ایس ایل کے دوسرے مرحلے کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شہر لاہور قلندرز کے دل کے قریب ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیم کے کھلاڑیوں کو عرفی نام دینے کا مقصد ان میں جوش اور اعتماد پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیگ میں سخت اور دلچسپ مقابلے جاری ہیں، کسی بھی ٹیم کو کامیابی یا ناکامی سے متاثر ہونے کے بجائے مستقل مزاجی اور محنت پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ ہر ٹیم کے پاس ٹائٹل جیتنے کا برابر موقع موجود ہے۔












