پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے، جس کے لیے ترکیہ کی آئینی عدالت کا اعلیٰ سطحی وفد 6 سے 9 اپریل تک پاکستان کا دورہ کرے گا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ترکیہ کے وفد کی قیادت آئینی عدالت کے صدر قادر اوزکایا کریں گے، جبکہ وفد میں ججز اور سینئر حکام بھی شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کا دورۂ پاکستان، عدالتی تعاون کا معاہدہ طے پانے کا امکان
اعلامیے میں بتایا گیا کہ دورے کی اہم تقریب 6 اپریل کو سپریم کورٹ پاکستان میں عدالتی تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے ججز، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود ہوں گے۔
معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان عدالتی تبادلے، صلاحیت سازی اور عدالتی فیصلوں میں بہترین عالمی طریقہ کار کے تبادلے کے لیے باقاعدہ فریم ورک قائم کیا جائے گا۔ اس تعاون کا مقصد آئینی حکمرانی کو مضبوط بنانا، قانون کی بالادستی کو فروغ دینا اور عدلیہ کی آزادی کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے سفیر کی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے اہم ملاقات
اعلامیے کے مطابق ضلعی سطح پر عدلیہ کی پیشہ ورانہ تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جس کے لیے مشترکہ تربیتی پروگرامز، تعلیمی تبادلے اور تقابلی عدالتی نظاموں سے آگاہی فراہم کی جائے گی۔
اس تعاون کے تحت عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی فروغ دیا جائے گا تاکہ انصاف کی فراہمی میں شفافیت، رفتار اور عوامی رسائی بہتر بنائی جا سکے۔
معاہدے پر عملدرآمد کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا جو تعاون کے طے شدہ شعبوں کی نگرانی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عدالتوں میں ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی ضرورت ہے، چیف جسٹس پاکستان
دورے کے دوران ترک وفد عدالتی اداروں اور انصاف کے شعبے سے وابستہ اہم شخصیات سے ملاقاتیں کرے گا، جہاں عدالتی اصلاحات، انتظامی امور اور جدید چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وفد ٹیکسلا اور لاہور کے تاریخی اندرون شہر کا دورہ بھی کرے گا۔
سپریم کورٹ کے مطابق یہ اقدام جدید، مؤثر اور عوام دوست عدالتی نظام کے قیام کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد عالمی معیار کے مطابق انصاف کی فراہمی اور عوامی اعتماد میں اضافہ کرنا ہے۔













