جمہوریہ ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نظیراوغلو نے آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی۔
آئندہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح عدالتی تبادلے کے پیش نظر متعلقہ سرکاری وزارتوں کو اعتماد میں رکھنے کے لیے اس ملاقات میں وزارتِ قانون و انصاف کے سیکریٹری اور وزارتِ خارجہ کے نمائندے نے بھی شرکت کی۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لطیف کھوسہ کا خط
یہ ملاقات مارچ 2026 میں جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کے مجوزہ دورۂ پاکستان کے تناظر میں ہوئی۔ اس دورے کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان اور ترکیہ کی آئینی عدالت کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط متوقع ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان منظم اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم پیشرفت ہوگی۔
چیف جسٹس نے مجوزہ دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ معزز مہمان کا استقبال پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات کے شایانِ شان اور عدالتی روایات کے مطابق کیا جائے گا۔
ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور خوشگوار تعلقات کو اجاگر کیا، جو مشترکہ قانونی روایات، باہمی احترام اور ثقافتی رشتوں پر مبنی ہیں۔ انہوں نے عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کے انضمام، استعداد کار میں اضافے اور بہترین عدالتی تجربات کے تبادلے میں بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی سراہا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ میں وکلا کی عدم پیشی پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا سخت ردعمل، صدر بار طلب
فریقین نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ آئندہ دورہ اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط عدالتی مکالمے، تحقیقی تعاون، تربیتی اقدامات اور قانونی نظائر کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے ایک مؤثر اور منظم فریم ورک فراہم کریں گے۔














