کیا اسٹارلنک پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کے لیے واقعی خطرہ بن سکتا ہے؟

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے امریکی ٹیک کمپنی اسٹارلنک کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے لائسنس دینے کا عمل روک دیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ ڈیٹا سیکیورٹی، نگرانی کے مسائل اور جیو پولیٹیکل خدشات کی وجہ سے اسٹارلنک کو منظوری دینے سے پہلے مزید احتیاط کرنا چاہتی ہے۔

حکام کے مطابق انہیں معلوم ہوا ہے کہ اسٹارلنک کچھ ڈیٹا پاکستان کی نگرانی اور حفاظتی چیک پوائنٹس کو بائی پاس کرتے ہوئے بھیج سکتا ہے، جس سے صارفین کے ڈیٹا کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا حکومت نے اسٹار لنک کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے لائسنس دینے کا عمل روک دیا ہے؟

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اسٹار لنک کو لائسنس دینے کا عمل تاخیر کا شکار ہے۔

مگر کوئی بھی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کس حد تک کسی ملک کی نیشنل سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔

ڈیٹا کا کنٹرول مکمل بیرونی اداروں کے پاس ہو تو خدشات ہو سکتے ہیں، حبیب اللہ

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سائبر سیکیورٹی ایکسپرٹ حبیب اللہ نے کہاکہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ روایتی براڈ بینڈ نیٹ ورکس سے مختلف ہوتا ہے، کیونکہ اس میں ڈیٹا زمین پر موجود مقامی نیٹ ورکس کے بجائے خلا میں موجود سیٹلائٹس کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس وجہ سے ریاستی اداروں کے لیے ڈیٹا کی نگرانی، فلٹرنگ اور ریگولیشن نسبتاً مشکل ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر ڈیٹا کا کنٹرول مکمل طور پر بیرونی اداروں کے پاس ہو تو اس سے قومی خودمختاری اور سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسٹار لنک کی تیسری نسل کی ٹیکنالوجی مقامی گراؤنڈ اسٹیشنز کے بغیر بھی کام کر سکتی ہے اور سیٹلائٹ مشن کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے سے کنیکٹ ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کک اسٹارلنک ٹرمینلز پر جغرافیائی پابندیاں (Geofencing) موجود ہیں، لیکن 60 دن کے GPS ری چیک کے سقم کی وجہ سے ان کی بلیک مارکیٹ عالمی سطح پر پھیل چکی ہے، اور یہی ٹرمینلز پاکستان جیسے حساس خطوں میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔

حبیب اللہ خان کے مطابق اسٹار لنک کے سگنلز کو ٹریک اور جام کیا جا سکتا ہے، مگر مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔ روس، چین اور ایران میں اس ٹیکنالوجی کا عسکری اور غیر ریاستی استعمال ایک واضح مثال ہے، خاص طور پر ڈرون حملوں اور سوارم آپریشنز میں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی مغربی سرحد پر موجود سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر، بلیک مارکیٹ اسٹارلنک ٹرمینلز کا ممکنہ دہشت گردانہ استعمال ایک بڑا خدشہ ہے، اسی لیے ریگولیٹرز کے لیے اس کی منظوری انتہائی مشکل ہے۔

اسٹار لنک ریاستی خودمختاری کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن سکتی ہے، اطہر عبدالجبار

سائبر سیکیورٹی ایکسپرٹ اطہر عبدالجبار کے مطابق تھرڈ پارٹی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز جیسے اسٹار لنک ریاستی خودمختاری کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن سکتی ہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایسی سروسز مقامی ٹیلی کام انفراسٹرکچر سے ہٹ کر کام کرتی ہیں، جس کے باعث ریاست کا ڈیٹا فلو پر کنٹرول کمزور ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ روایتی انٹرنیٹ نیٹ ورکس میں حکومتیں قانونی اور تکنیکی ذرائع سے ٹریفک کی نگرانی، فلٹرنگ اور انٹرسیپشن کر سکتی ہیں، مگر سیٹلائٹ بیسڈ سسٹمز میں یہ صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔

اطہر عبدالجبار کے مطابق اس کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ حساس معلومات، جیسے سرکاری کمیونیکیشن، دفاعی ڈیٹا یا اسٹریٹجک انفارمیشن غیر ارادی طور پر بیرونی نیٹ ورکس کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر ڈیٹا کی روٹنگ اور اسٹوریج کسی غیر ملکی کمپنی کے کنٹرول میں ہو تو اس پر مکمل اعتماد ایک بڑا رسک بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایسے نیٹ ورکس کو ریاستی سنسرشپ یا سائبر سیکیورٹی میکانزم سے بچنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو داخلی استحکام کے لیے چیلنج پیدا کر سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی مثال کے طور پر یوکرین کی صورتحال کو دیکھا جا سکتا ہے، جہاں جنگ کے دوران اسٹارلنک نے انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی بحال رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم اسی کیس نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک نجی کمپنی کے پاس کمیونیکیشن انفراسٹرکچر پر کتنا اثر و رسوخ ہو سکتا ہے۔ بعض مواقع پر سروس کی دستیابی یا حدود کے فیصلے خود کمپنی کی پالیسی کے مطابق ہوئے، جس سے یہ سوال اٹھا کہ اگر کسی ملک کا اہم کمیونیکیشن نیٹ ورک کسی نجی یا غیر ملکی ادارے پر منحصر ہو جائے تو اس کی اسٹریٹجک خودمختاری کس حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چائنا نے اسی وجہ سے غیر ملکی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں، تاکہ وہ اپنے ڈیجیٹل اسپیس، ڈیٹا فلو اور انفارمیشن کنٹرول کو مکمل طور پر اپنے دائرہ اختیار میں رکھ سکیں۔

انہوں نے کہاکہ غیر کنٹرول شدہ انٹرنیٹ رسائی نہ صرف سیکیورٹی بلکہ سیاسی اور سماجی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سیٹلائٹ انٹرنیٹ محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک مسئلہ ہے۔ اگر بغیر جامع پالیسی، ڈیٹا پروٹیکشن قوانین اور سیکیورٹی گارنٹیز کے اسے متعارف کرایا جائے تو اس سے ریاستی کنٹرول کمزور، حساس معلومات غیر محفوظ اور مجموعی طور پر قومی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔

دنیا کے کئی ممالک میں اسٹار لنک جیسی سروسز کام کررہی ہیں

ایک ٹیلی کام ایکسپرٹ نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اسٹارلنک جیسی سروسز کامیابی سے کام کر رہی ہیں، جہاں حکومتوں نے سخت ریگولیٹری فریم ورک، ڈیٹا پروٹیکشن قوانین اور سیکیورٹی آڈٹس کے ذریعے ان خطرات کو محدود کیا ہے۔

اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں اس کے استعمال کے لیے بنائے گئے قوانین اور نگرانی کا نظام ہے، ماہرین

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کے استعمال کے لیے بنائے گئے قوانین اور نگرانی کا نظام ہے۔ اس لیے وہ حکومت کی جانب سے دیے گئے اس بیان کو مکمل طور پر درست نہیں سمجھتے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ملک کو ایک طرف تیز رفتار اور دور دراز علاقوں تک انٹرنیٹ کی فراہمی کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف ڈیٹا سیکیورٹی اور قومی مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں اسٹار لنک کی سروسز شروع ہونے میں کتنا وقت درکار ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب پالیسی، شفاف لائسنسنگ شرائط اور سیکیورٹی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تو پاکستان سیٹلائٹ انٹرنیٹ جیسی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ممکنہ خطرات کو بھی کم کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹارلنک کو لائسنس دینے کا فیصلہ محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹیجک فیصلہ بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات: بنگلہ دیش کی واحد آئل ریفائنری بند

سعودی عرب کی جانب سے اضافی مالی معاونت کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

’ڈراما انڈسٹری میں پیسے نہیں، اداکار گردے بیچ کر ایمار میں گھر بنا رہے ہیں‘، کنور اسلان کے حٰیران کن بیانات

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا اہم سفارتی دورہ پر آج روانہ ہوں گے

آبنائے ہرمز پر امریکی شکنجہ: ایران کی سمندری تجارت بند، خطے میں کشیدگی اور عالمی معیشت متاثر

ویڈیو

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا