تمغوں کی چمک بمقابلہ ماربل فیکٹری کی دھول، باجوڑ کے جمناسٹک اسٹار رضوان پٹھان کی کہانی

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جس کے سینے پر درجنوں تمغے سجتے ہیں، آج اس کے ہاتھوں میں فیکٹری کا بھاری اوزار ہے۔ یہ کہانی ہے باجوڑ سے تعلق رکھنے والے رضوان پٹھان کی، جس نے جمناسٹک کے میدان میں اپنی لچک اور مہارت سے درجنوں میڈلز تو جیتے، مگر نظام کی بے حسی نے اسے ایک فیکٹری میں مزدوری کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

میڈل صرف گلے کا بوجھ بن گئے

رضوان پٹھان کا کہنا ہے کہ میدانِ عمل میں دکھائی گئی مہارت اسے دو وقت کی روٹی نہ دے سکی۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ میڈل صرف گلے میں ڈالنے کے لیے ہیں، زندگی گزارنے کے لیے نہیں، ان تمغوں کی چمک سے گھر کا چولہا نہیں جلتا۔

باجوڑ جیسے پسماندہ علاقے سے نکل کر قومی سطح پر نام کمانے والے اس کھلاڑی کی کہانی پاکستان میں کھیلوں کے ڈھانچے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

رضوان جیسا ٹیلنٹ جسے اکیڈمیوں میں ہونا چاہیے تھا، آج فیکٹری کی گرد اور شور میں اپنا مستقبل تلاش کررہا ہے۔

ایک طرف جمناسٹک کی وہ لچکدار ادائیں جو داد سمیٹتی تھیں، اور دوسری طرف فیکٹری کی وہ سخت مزدوری جو ہڈیاں توڑ دیتی ہے، تمغے جیتے مگر تقدیر نہ بدل سکی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی ایئرپورٹ پر دبئی سے آنے والے مسافر سے 55 لاکھ روپے مالیت کے الیکٹرانکس آئٹمز برآمد

قندھار میں یونائیٹڈ فرنٹ کا حملہ: طالبان محتسب ہلاک، حملے کی ویڈیو بھی جاری

جدید اسمارٹ ٹوائلٹ سیٹ صرف 30 سیکنڈ میں دل کی دھڑکن چیک کرے گا

امریکی سینیٹ میں کرپٹو کرنسیوں کے لیے جامع قانون سازی کی راہ ہموار

روسی فوج کو جولائی میں 42 ہزار 800 جانی نقصان، یوکرین پر ریکارڈ گلائیڈ بموں کی بارش

ویڈیو

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران اور عمان معاہدے کے قریب، تہران نے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط رکھ دی

اگر عام آدمی کا احتساب ہوتا ہے تو وزرا بھی قانون سے ماورا نہیں، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

کالم / تجزیہ

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں