پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے دوران شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دونوں سمتوں میں متحرک رہا۔
کاروبار کے آغاز پر مارکیٹ منفی رجحان کا شکار رہی اور انڈیکس دن کی کم ترین سطح 147,771.35 پوائنٹس تک گر گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی معیشت میں بہتری، دوسری سہ ماہی میں 3.89 فیصد ترقی ریکارڈ
تاہم سیشن کے دوسرے حصے میں خریداری کا رجحان واپس آیا جس کے نتیجے میں انڈیکس 151,875.01 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔
آج کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 809.10 پوائنٹس یعنی 0.54 فیصد اضافے کے ساتھ 151,207.81 پوائنٹس پر بند ہوا۔
Market Close Update: Positive Today! 🚀
🇵🇰 KSE 100 ended positive by +809.1 points (+0.54%) and closed at 151,207.8 with trade volume of 270.6 million shares and value at Rs. 26.24 billion. Today's index low was 147,771 and high was 151,875. pic.twitter.com/8FBhtun9uY— Investify Pakistan (@investifypk) April 6, 2026
ماہرین کے مطابق ابتدائی دباؤ کی وجہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خدشات تھے، تاہم ممکنہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی کی امیدوں نے سیشن کے اختتام پر مارکیٹ میں تیزی پیدا کی۔
انڈیکس پر دباؤ ڈالنے والی کمپنیوں میں یونائیٹڈ بینک، بینک الفلاح، اٹک ریفائنری، پاکستان آئل فیلڈز اور نیسلے شامل رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر 716 پوائنٹس کم کیے، جبکہ اینگرو ہولڈنگز، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، لکی سیمنٹ، حب پاور، او جی ڈی سی اور مسلم کمرشل بینک نے 666 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
دریں اثنا امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک مجوزہ منصوبہ سامنے آیا ہے، جس میں فوری جنگ بندی اور 15 سے 20 دن میں مذاکرات مکمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 1,309 پوائنٹس یعنی 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 150,398.70 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی گئی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سخت انتباہ کے بعد ایشیائی مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان رہا۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور برینٹ کروڈ 1.4 فیصد بڑھ کر 110.58 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 1.2 فیصد اور جنوبی کوریا کا کوسپی 2 فیصد بڑھا۔
ادھر انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ معمولی مضبوط ہوا اور 0.01 فیصد اضافے کے ساتھ 279.07 روپے فی ڈالر پر بند ہوا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد استحکام، انڈیکس میں 837 پوائنٹس کا اضافہ
کاروباری حجم 457.21 ملین شیئرز رہا جبکہ حصص کی مالیت بڑھ کر 30.88 ارب روپے تک پہنچ گئی، سی انرجی کو پی کے 57.96 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہی، اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام اور پاک ریفائنری کا نمبر رہا۔
پیر کے روز 483 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 261 میں اضافہ، 153 میں کمی جبکہ 69 میں استحکام رہا۔













