فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی جانب سے جاری کردہ سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی نے اپنے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران طے شدہ ایجنڈے کا 87 فیصد مکمل کر لیا، جو کارکردگی اور وقت کی پابندی میں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔
فافن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی نے مارچ 2025 تا فروری 2026 کے دوران یوں تو اپنے بیشتر ایجنڈے کی بروقت تکمیل کی ہے، تاہم قانون سازی پر بحث، حکومتی نگرانی اور پارلیمانی وقت کے مؤثر استعمال میں اب بھی نمایاں خلا موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کفایت شعاری اقدامات: قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے 47 کروڑ 21 لاکھ روپے قومی خزانے میں واپس کیے
رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی نے 11 اجلاسوں میں مجموعی طور پر 84 نشستیں کیں، جن کا دورانیہ 263 گھنٹے 22 منٹ رہا، جس میں سے 87 فیصد وقت مؤثر کارروائی پر مشتمل تھا۔
اجلاسوں کے آغاز میں تاخیر اوسطاً 17 منٹ رہی، جو گزشتہ سال کے 44 منٹ کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔
مزید پڑھیں:
تاہم پارلیمانی وقت کا بڑا حصہ نکتہ ہائے اعتراض یعنی پوائنٹس آف آرڈر پر صرف ہوا، جن پر پارلیمانی کارروائی کا 17 فیصد یعنی 40 گھنٹے 23 منٹ خرچ ہوئے، جو قانون سازی پر بحث کے وقت سے بھی زیادہ ہے۔
رول 288، جس کے تحت قواعد معطل کر کے ایجنڈا تیزی سے نمٹایا جا سکتا ہے، 30 مرتبہ استعمال کیا گیا۔
قانون سازی کی صورتحال
قومی اسمبلی نے مجموعی طور پر 67 بل منظور کیے، جن میں 45 سرکاری، 8 آرڈیننس اور 14 نجی ارکان کے بل شامل تھے۔
سرکاری قانون سازی میں سے 42 فیصد عوامی نوعیت کے معاملات جبکہ 58 فیصد انتظامی و طریقہ کار سے متعلق تھے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ 6 بل کم از کم غور و فکر کی مدت معطل کر کے منظور کیے گئے، جن میں سے 4 ایک ہی دن میں پیش اور منظور ہوئے۔
نگرانی کے عمل میں بہتری مگر مسائل برقرار
ایوان میں 1,961 سوالات درج کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہیں، اور ان کا جواب دینے کی شرح 91 فیصد رہی۔
تاہم سوالات کا وقت مقررہ 51 نشستوں میں سے صرف 35 میں منعقد ہوا، اسی طرح توجہ دلاؤ نوٹسز میں سے صرف 66 فیصد کا وزارتی جواب آیا جبکہ 34 فیصد زیر غور ہی نہ آ سکے۔
خواتین کی کارکردگی نمایاں
خواتین ارکان نے حاضری اور شرکت دونوں میں مرد ارکان سے بہتر کارکردگی دکھائی، انہوں نے زیادہ سوالات جمع کرائے اور اجلاسوں میں زیادہ متحرک رہیں۔
ایوان کا جینڈر ریسپانسیونس اسکور 1.0 رہا، جو مرد و خواتین ارکان کے ایجنڈے پر یکساں توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔
تاہم بعض معاملات جیسے عوامی اہمیت کی تحریکیں، قواعد میں ترامیم اور نجی بلز میں تفاوت برقرار رہا۔
حاضری اور شرکت کا رجحان
فی نشست اوسط حاضری 200 ارکان یعنی مجموعی تعداد کا 60 فیصد رہی، کابینہ ارکان کی حاضری اوسطاً 51 فیصد جبکہ نجی ارکان کی 60 فیصد رہی۔
وزیراعظم نے صرف 6 نشستوں یعنی 7 فیصد میں شرکت کی، جبکہ سابق اور موجودہ قائد حزب اختلاف نے بالترتیب 53 فیصد اور 100 فیصد نشستوں میں شرکت کی۔
اگرچہ 90 فیصد ارکان نے پارلیمانی کارروائی میں حصہ لیا، لیکن 12 فیصد یعنی 41 ارکان مکمل طور پر غیر فعال رہے۔
مزید پڑھیں: نوید قمر دوبارہ پارلیمنٹرینز فار گلوبل ایکشن کے صدر منتخب، اسپیکر قومی اسمبلی کی مبارکباد
مزید یہ کہ 10 ایسے ارکان بھی سامنے آئے جن کی حاضری 70 فیصد سے زیادہ ہونے کے باوجود انہوں نے کسی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔
فافن نے زور دیا ہے کہ جمہوری نظام کو مؤثر بنانے کے لیے قانون سازی کے عمل کی کڑی جانچ، نگرانی کے نظام کی مستقل پابندی اور پارلیمانی وقت کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جائے۔













