اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج منگل کو آبنائے ہرمز سے متعلق بحرین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر ووٹنگ کرنے جا رہی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل ہوگی۔
یہ قرارداد بحرین نے خلیجی تعاون کونسل اور اردن کے تعاون سے تیار کی ہے، جس میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات میں ہم آہنگی پر زور دیا گیا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران فوری طور پر تجارتی جہازوں اور شہری تنصیبات، بشمول تیل، گیس اور پانی کے مراکز پر حملے بند کرے۔
یہ بھی پڑھیے: آبنائے ہرمز ٹول فیس یوآن میں ادا کیے جانے کی خبر، چینی کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ 28 فروری کو ایران کے اہداف پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے بعض جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی، تاہم تجارتی سرگرمیوں میں خلل نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب امریکا اور اسرائیل نے بھی ایرانی بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے کثیر القومی بحری اتحاد کی تجویز دی ہے، تاہم فرانس، جرمنی، جاپان اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے محتاط رویہ اپنایا ہے۔ برطانیہ نے اس حوالے سے 40 ممالک کے ساتھ مشاورت بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: فیلڈ مارشل اور وزیرخارجہ کی کوششوں سے آبنائے ہرمز سے پاکستان کے جہاز گزر گئے، وزیراعظم شہباز شریف
قرارداد کے ابتدائی مسودے میں طاقت کے استعمال کی شق شامل تھی، تاہم چین، روس اور چند یورپی ممالک کے اعتراضات کے بعد اسے نکال دیا گیا۔ موجودہ متن بین الاقوامی قوانین کے تحت دفاعی اقدامات تک محدود ہے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے باقاعدہ رپورٹس طلب کرتا ہے۔














