جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس مفت مگر رش میں بے پناہ اضافہ، عوام کیا کہتے ہیں؟

منگل 7 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس مشکل صورتحال کے پیش نظر حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے راولپنڈی اور اسلام آباد (جڑواں شہروں) میں چلنے والی تمام میٹرو بس سروسز کو ایک ماہ کے لیے عام شہریوں کے لیے مکمل طور پر مفت کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ فیصلہ 3 اپریل 2026 کو کیا گیا، جس کے تحت 4 اپریل 2026 سے راولپنڈی-اسلام آباد میٹرو بس سمیت تمام متعلقہ بس سروسز عوام کے لیے فری ہو گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر میٹرو بس اسٹاف کا احتجاج، اسلام آباد راولپنڈی سروس معطل

حکومت کے اس اقدام کو شہریوں کی جانب سے مجموعی طور پر خوب سراہا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں حکومت نے عوام کے مسائل کو سمجھتے ہوئے ایک مثبت اور عوام دوست فیصلہ کیا ہے، جو خاص طور پر کم آمدنی والے طبقات کے لیے بڑا ریلیف ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم، اس فیصلے کے مثبت پہلو کے ساتھ ساتھ شہریوں کی جانب سے کئی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ خاص طور پر میٹرو بس سروس کے حوالے سے مسافروں کا کہنا ہے کہ فری سروس شروع ہونے کے بعد بسوں میں حد سے زیادہ رش بڑھ گیا ہے۔ کئی مسافروں کو ٹکٹ کاؤنٹر یا بس اسٹیشن پر گھنٹوں تک قطاروں میں کھڑے رہنا پڑ رہا ہے۔ طویل انتظار کے باوجود بس میں سواری کی باری آنے پر اکثر کھڑے ہونے کی جگہ بھی مشکل سے مل پاتی ہے۔

روزانہ میٹرو بس کا استعمال کرنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ وہ کئی سالوں سے اس سروس سے سفر کر رہے ہیں، مگر فری سروس کے آغاز کے بعد پہلی بار اتنا شدید رش دیکھنے کو ملا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اب وہ لوگ بھی میٹرو بس استعمال کر رہے ہیں جو عام دنوں میں دیگر ذرائع سے سفر کرتے تھے یا جن کا روزانہ میٹرو استعمال نہیں ہوتا تھا۔ اس اضافی رش کی وجہ سے باقاعدہ مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں مفت میٹرو اور بس سروسز کی سہولت عوام میں مقبول، مسافروں کی تعداد میں 61 فیصد اضافہ

مسافروں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ بہت اچھا ہے اور عوام کے حق میں ہے، لیکن انتظامی سطح پر رش کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی مناسب بندوبست نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً بسوں میں سواری تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس فری سروس کو جاری رکھتے ہوئے بسوں کی تعداد میں اضافہ کرے، اضافی بسوں کا انتظام کرے اور اسٹیشنوں پر قطاروں کے نظام کو بہتر بنائے تاکہ مسافروں کو غیر ضروری تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔

مجموعی طور پر حکومت کا یہ اقدام عوام کی سہولت کے لیے قابل تحسین ہے، البتہ اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ رش کے اس بوجھ کو کیسے منظم کیا جاتا ہے۔ اگر حکومت اس مسئلے کا فوری نوٹس لے کر عملی اقدامات کرے تو یہ سروس واقعی عوام کے لیے ایک بڑا تحفہ ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟