عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس مشکل صورتحال کے پیش نظر حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے راولپنڈی اور اسلام آباد (جڑواں شہروں) میں چلنے والی تمام میٹرو بس سروسز کو ایک ماہ کے لیے عام شہریوں کے لیے مکمل طور پر مفت کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ فیصلہ 3 اپریل 2026 کو کیا گیا، جس کے تحت 4 اپریل 2026 سے راولپنڈی-اسلام آباد میٹرو بس سمیت تمام متعلقہ بس سروسز عوام کے لیے فری ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر میٹرو بس اسٹاف کا احتجاج، اسلام آباد راولپنڈی سروس معطل
حکومت کے اس اقدام کو شہریوں کی جانب سے مجموعی طور پر خوب سراہا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں حکومت نے عوام کے مسائل کو سمجھتے ہوئے ایک مثبت اور عوام دوست فیصلہ کیا ہے، جو خاص طور پر کم آمدنی والے طبقات کے لیے بڑا ریلیف ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم، اس فیصلے کے مثبت پہلو کے ساتھ ساتھ شہریوں کی جانب سے کئی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ خاص طور پر میٹرو بس سروس کے حوالے سے مسافروں کا کہنا ہے کہ فری سروس شروع ہونے کے بعد بسوں میں حد سے زیادہ رش بڑھ گیا ہے۔ کئی مسافروں کو ٹکٹ کاؤنٹر یا بس اسٹیشن پر گھنٹوں تک قطاروں میں کھڑے رہنا پڑ رہا ہے۔ طویل انتظار کے باوجود بس میں سواری کی باری آنے پر اکثر کھڑے ہونے کی جگہ بھی مشکل سے مل پاتی ہے۔
روزانہ میٹرو بس کا استعمال کرنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ وہ کئی سالوں سے اس سروس سے سفر کر رہے ہیں، مگر فری سروس کے آغاز کے بعد پہلی بار اتنا شدید رش دیکھنے کو ملا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اب وہ لوگ بھی میٹرو بس استعمال کر رہے ہیں جو عام دنوں میں دیگر ذرائع سے سفر کرتے تھے یا جن کا روزانہ میٹرو استعمال نہیں ہوتا تھا۔ اس اضافی رش کی وجہ سے باقاعدہ مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں مفت میٹرو اور بس سروسز کی سہولت عوام میں مقبول، مسافروں کی تعداد میں 61 فیصد اضافہ
مسافروں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ بہت اچھا ہے اور عوام کے حق میں ہے، لیکن انتظامی سطح پر رش کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی مناسب بندوبست نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً بسوں میں سواری تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس فری سروس کو جاری رکھتے ہوئے بسوں کی تعداد میں اضافہ کرے، اضافی بسوں کا انتظام کرے اور اسٹیشنوں پر قطاروں کے نظام کو بہتر بنائے تاکہ مسافروں کو غیر ضروری تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔
مجموعی طور پر حکومت کا یہ اقدام عوام کی سہولت کے لیے قابل تحسین ہے، البتہ اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ رش کے اس بوجھ کو کیسے منظم کیا جاتا ہے۔ اگر حکومت اس مسئلے کا فوری نوٹس لے کر عملی اقدامات کرے تو یہ سروس واقعی عوام کے لیے ایک بڑا تحفہ ثابت ہو سکتی ہے۔












