پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے دھاوے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ قابلِ مذمت اقدام مقدس مقام کی حرمت اور اس کی تاریخی حیثیت پر براہِ راست حملہ ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان نے واضح طور پر اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کی مذہبی، تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل یا کمزور کرنے کی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے جائز مؤقف کی غیرمتزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کیا ہے، جس میں ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت بھی شامل ہے۔
بیان میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پاکستان ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا، جو جون 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ہو اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔














